نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1127 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1127

پیدائش میں بھی کوئی نقص اور کمزوری نہیں ہوتی اور بے موقع موت بھی نہیں ہوتی۔ہاں درمیانی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والی بعض کمزوریاں ہوتی ہیں اور ان کے بھی دو حصے ہوتے ہیں (1) وہ حصہ جو پیدائش کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے (2) وہ حصہ جوموت کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔پہلے حصہ کے متعلق فرمایا وَ مِنْ شَرِ النَّفْتِ فِي الْعُقَدِ یعنی انسان کی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ماں سے ایسے ہی خوراک لیتا ہے جیسے پورا جڑ سے لیتا ہے۔گو یار بوبیت کے لحاظ سے اس کا ماں باپ سے ظاہری تعلق ہوتا ہے۔اور باطنی لحاظ سے خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے۔یعنی وہ روحانی طور پر خدا تعالیٰ کا فرزند ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہی اسے پیدا کر تا خدا تعالیٰ ہی اس کی ربوبیت کرتا اور اُسے بڑھاتا ہے۔آیت زیر تفسیر میں بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے انسان کا تعلق اور معتقد ایسا ہے کہ تمام قو تیں اسی سے حاصل ہوتی ہیں اور نشو نما پاتی ہیں۔مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض شریر لوگ خیالات میں وسوسے ڈال کر بندہ کو خدا تعالیٰ سے علیحدہ کر وا دیتے ہیں اور نالائق بندہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیتا ہے۔جس طرح دنیا میں نالائق بچے ماں باپ کو چھوڑ دیتے ہیں اور ان سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے دعا سکھلائی کہ کہو ایسا نہ ہو کہ وہ گرہ جس سے ہم خدا تعالیٰ سے فیوض حاصل کرتے ہیں وہ ٹوٹ جائے بلکہ ایسا ہو کہ میرا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق روحانی رب ہونے کے لحاظ سے ہے وہ گرہ مضبوط رہے۔تا ایسا نہ ہو کہ جو غذا مجھے وہاں سے ملتی ہے وہ بند ہو جائے اور میں بلاک ہو جاؤں۔الغرض مِن شَرِّ مَا خَلَقَ میں خلقی کمزوریوں سے بچنے کی دعا سکھائی۔اور مِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ میں موت کے ساتھ تعلق رکھنے والی خرابیوں اور مِن شَرِ النَّفْتِ فِي الْعُقَدِ میں زندگی میں پیش آنے والی ان باتوں سے جن سے دُور ہو کر انسان کمال سے محروم ہو جاتا ہے اور کمال حاصل کرنے کی طاقتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔1127