نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1096 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1096

ما سورۃ فلق میں یعنی آیت وَمِن شَيرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ میں آنے والی ایک سخت تاریکی سے ڈرایا گیا اور فقرہ قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں آنے والی ایک صبح صادق کی بشارت دی گئی اور اس مطلب کے حصول کے لئے سورۃ الناس میں صبر اور ثبات کے ساتھ وساوس سے بچنے کے لئے تاکید کی گئی۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 285 حاشیہ) بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا اوروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اگر فلاں نہ ہوتا تو میں بلاک ہو جاتا۔میرے ساتھ فلاں نے احسان کیا۔وہ نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں اس خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جس کی تمام پرورشیں ہیں۔رب یعنی پرورش کنندہ وہی ہے۔اس کے سوا کسی کا رحم اور کسی کی پرورش نہیں ہوتی حتی کہ جو ماں باپ بچے پر رحمت کرتے ہیں دراصل وہ بھی اسی خدا کی پرورشیں ہیں اور بادشاہ جو رعایا پر انصاف کرتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے وہ سب بھی اصل میں خدا تعالیٰ کی مہر بانی ہے۔ان تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ یہ سکھلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں۔سب کی پرورشیں اسی کی ہی پرورشیں ہیں۔بعض لوگ بادشاہوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نہ ہوتا تو میں تباہ ہو جاتا اور میرا فلاں کام فلاں بادشاہ نے کر دیا۔وغیرہ وغیرہ۔یادرکھو ایسا کہنے والے کا فر ہوتے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ کا فرنہ بنے۔اور مومن نہیں ہوتا جب تک کہ دل سے ایمان نہ رکھے کہ سب پرورشیں اور رحمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔انسان کو اس کا دوست ذرہ بھی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کا رحم نہ ہو۔اسی طرح بچے اور تمام رشتہ داروں کا حال ہے۔اللہ تعالیٰ کا رحم ہونا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل میں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں۔جب تک خدا تعالیٰ کی پرورش نہ ہو تو کوئی پرورش نہیں کرسکتا۔دیکھو جب خدا تعالیٰ کسی کو بیمار ڈال دیتا ہے تو بعض دفعہ طبیب کتنا ہی زور لگاتے ہیں مگر وہ بلاک ہو جاتا ہے۔طاعون کے مرض کی طرف غور کروسب ڈاکٹر زور لگا چکے مگر 1096