نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1097 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1097

یہ مرض دفع نہ ہوا۔اصل یہ ہے کہ سب بھلائیاں اس کی طرف سے ہیں اور وہی ہے کہ جو تمام بدیوں کو دور کرتا ہے۔( البدر جلد 2 نمبر 44 مورخہ جولائی 1903 ، صفحہ 185 ، 186) علا غاستی عربی میں تاریکی کو کہتے ہیں جو کہ بعد زوال شفق اول رات چاند کو ہوتی ہے اور اسی لئے یہ لفظ قمر پر بھی اس کی آخری راتوں میں بولا جاتا ہے جبکہ اس کا نور جاتا رہتا ہے اور خسوف کی حالت میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔قرآن شریف میں مِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ کے یہ معنے ہیں مِن شَرِ ظُلْمَةٍ إِذَا دَخَلَ یعنی ظلمت کی برائی سے جب وہ داخل ہو۔( البدر جلد 2 نمبر 6 مورخہ 27 فروری 1903 ، صفحہ 43) ا مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ اصل میں صفات گل نیک ہوتے ہیں جب ان کو بے موقع اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ برے ہو جاتے ہیں اور ان کو گندہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب ان ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر محل اور موقع پر استعمال کیا جاوے تو ثواب کے موجب ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے مِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَا اور دوسری جگہ الشبِقُونَ الْأَوَّلُونَ۔اب سبقت لے جانا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے۔سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اور کوئی آگے بڑھ جاوے۔یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جاتی ہے۔اگر بچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنے والے کی استعداد بڑھ جاتی ہے۔سابقون گو یا حاسد ہی ہوتی ہیں لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفی ہو کر سابق ہو جاتا ہے۔اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جاویں گے۔( البدر جلد 2 نمبر 12 مورخہ 10 را پریل 1903 ، صفحہ 89) (ماخوذ از تفسیر حضرت مسیح موعود ) حضرت خلیفۃ اسبح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ملا یہ سورہ شریفہ مدنی ہے یعنی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھی۔اس میں بِسْمِ اللہ 1097