نُورِ ہدایت — Page 1095
سکتا ہے۔قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہہ میں پناہ مانگتا ہوں اُس رب کی جس نے تمام مخلوقات پیدا کی اس طرح پر کہ ایک کو پھاڑ کر اس میں سے دوسرا پیدا کیا یعنی بعض کو بعض کا محتاج بنایا اور جو تاریکی کے بعد صبح کو پیدا کرنے والا ہے۔مِنْ شَر مَا خَلَقَ ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں ایسی مخلوق کی شر سے جو تمام شریروں سے شہر میں بڑھی ہوئی ہے اور شرارتوں میں اُس کی نظیر ابتداء دنیا سے اخیر تک اور کوئی نہیں جن کا عقیدہ امر حق لم يلد و لم یولد کے برخلاف ہے یعنی وہ خدا کے لئے ایک بیٹا تجویز کرتے ہیں۔وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَ مِنْ شَيْرِ النَّقْتُتِ فِي الْعُقَدِ وَ مِنْ شَيْرِ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ۔اور ہم پناہ مانگتے ہیں خدا تعالیٰ کی اس زمانہ سے جبکہ تثلیث اور شرک کی تاریکی تمام دنیا پر پھیل جائے گی۔اور نیز اُن لوگوں کے شر سے کہ جو پھونکیں مار کر گر ہیں دیں گے۔یعنی دھوکادہی میں جادو کا کام دکھائیں گے اور راہ راست کی معرفت کو مشکلات میں ڈال دیں گے۔اور نیز اس بڑے حاسد کے حسد سے پناہ مانگتا ہوں جبکہ وہ گروہ سراسر حسد کی راہ سے حق پوشی کرے گا۔یہ تمام اشارات عیسائی پادریوں کی طرف ہیں کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو وہ دنیا میں شہر پھیلائیں گے اور دنیا کو تاریکی سے بھر دیں گے اور جادو کی طرح ان کا دھوکا ہوگا اور وہ سخت حاسد ہوں گے اور اسلام کو حسد کی راہ سے بنظر تحقیر دیکھیں گے۔اور لفظ ربّ الْفَلَقِ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس تاریکی کے بعد پھر صبح کا زمانہ بھی آئے گا جو مسیح موعود کا زمانہ ہے۔۔۔۔ان دونوں سورتوں ( اخلاص اور فلق ) میں ایک ہی فرقہ کا ذکر ہے۔صرف یہ فرق ہے کہ سورۃ اخلاص میں اس فرقہ کی اعتقادی حالت کا بیان ہے اور سورۃ الفلق میں اس فرقہ کی عملی حالت کا ذکر ہے۔اور اس فرقہ کا نام سورۃ الفلق میں شَرِ مَا خَلَقَ رکھا گیا ہے۔یعنی شَرُّ الْبَرِيَّةِ اور احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال معہود کا نام بھی شر الْبَرِيَّةِ ہے کیونکہ آدم کے وقت سے اخیر تک شر میں اُس کے برابر کوئی نہیں۔تحفہ گولڑو یه روحانی خزائن جلد 17 صفحه 269 - 272 حاشیہ) 1095