نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1084 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1084

ڈوئی کا خیال نہیں پایا جا تا۔۔۔احد کا لفظ یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکتا ہے۔یہ دو قسم کی نفی کرتا ہے۔پہلی یہ کہ وہ دو سے ایک نہیں ہوا۔اور دوسری یہ کہ وہ ایک سے بھی دو نہیں ہوا۔اس مختصر سی سورۃ کے ذریعہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کا ثبوت دیا ہے۔وہاں شرک کا بھی گلی استیصال کر دیا ہے۔شرک دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک تو یہ کہ کئی وجود خدا کی حیثیت رکھنے والے ہوں۔چاہے اس سے چھوٹے ہوں یا بڑے۔دوسرے یہ کہ خدا کے سوا باقی ہو تو مخلوق ہی مگر اُسے خدائی کا درجہ دیا گیا ہو۔تو ایک شرک فی الذات ہے اور دوسرا شرک فی الصفات۔اللہ تعالیٰ نے قُلْ هُوَ اللهُ احد کہ کر تمام اُن لوگوں کے عقائد کی تردید کر دی جو تین خدا کہتے ہیں یا دو خداؤں کے قائل ہیں۔یا خدا کا بیٹا یا بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔یا اور بتوں کو پوجتے ہیں۔چنانچہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ کے بعد الله الصَّمَدُ اور پھر لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ کہہ کر بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں جو لوگ شرک کرتے ہیں اور دوسروں کو اس کی صفات میں شریک قرار دیتے ہیں یہ اُن کی غلطی ہے خواہ کتناہی کوئی بڑا انسان ہو وہ اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے۔نہ اس کے رتبہ کو کوئی پہنچ سکتا ہے اور نہ اس کا کوئی شریک فی الفعل ہو سکتا ہے۔الله الصمد۔صد ایسی ہستی کو کہتے ہیں کہ جو خود کسی کی محتاج نہ ہو بلکہ باقی سب چیزیں اس کی محتاج ہوں۔قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ میں یہ دعویٰ تھا کہ اللہ ہے اور ایک ہے۔اب اس دعویٰ کی دلیل اللہ الصمد میں دی گئی ہے۔اس سورۃ کی ہر آیت پہلی آیت کے مضمون کی ایک مضبوط دلیل ہے۔چنانچہ پہلے فرمایا هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔یعنی حقیقت یہ ہے کہ اللہ منفرد ہے اور پھر فرمایا کہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ الله الصمد دنیا کی ہر چیز اس کی محتاج ہے۔اور جب ساری چیزیں اس کی محتاج ہیں اور وہی ہمارے سب کام پورے کرتا ہے تو پھر کسی اور رب کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔الصمد کے دوسرے معنے الرفیع کے ہیں۔یعنی بلند درجات والا۔ان معنوں کے لحاظ 1084