نُورِ ہدایت — Page 1085
الله الصمد کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ ذات جس کے متعلق ہم نے کہا ہے کہ وہ احدیت کی شان رکھتا ہے وہ رفیع الدرجات ہے اور غیر محدود ہے اور قیاسات سے بالا ہے۔احمد کے ایک معنے الدائم کے بھی ہیں یعنی ابدی۔گویا بتایا گیا ہے کہ اللہ ہے اور ایک ہے اور یہ کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔نہ اس سے کوئی پہلے وجود تھا اور نہ بعد میں ہوگا بلکہ وہی ہے جو اول بھی ہے اور آخر بھی۔الله الصَّمَدُ کے بعد لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولّد کہہ کر اللہ تعالیٰ کی صمدیت کی دلیل دی اور بتایا کہ احتیاج دو باتوں کے سبب سے پیدا ہوتی ہے۔اول ابتدائی تعلقات کی وجہ سے۔دوم آئندہ کے تعلقات کی وجہ سے۔ابتدائی تعلقات سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کے نیست سے ہست میں آنے اور عالم وجود میں ظاہر کئے جانے کا کوئی سبب ہو اور جس کے پیدا ہونے اور نیست سے ہست میں آنے کا کوئی سبب ہوگا لازماً وہ وجود محتاج ہوگا۔کیونکہ اگر وہ سبب نہ ہوتا تو اُس کا وجود ظاہر نہ ہوسکتا۔اور آئندہ کے تعلقات سے مراد یہ ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔کیونکہ اولاد کا ہونا نہ صرف عورت کی احتیاج کو ثابت کرتا ہے بلکہ اولاد کا وجود خود اپنے نفس کے فانی ہونے کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔غرض لم يلد ولم يُولّد کہہ کر اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے تعلقات کی نفی کر دی اور ایک طرف تو اس کی صمدیت کا ثبوت دیا اور دوسری طرف اس کی احدیت کا ثبوت دے دیا۔گویا یہ دو آیتیں مل کر پہلی دو آیتوں کا ثبوت ہیں۔پھر لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولّد کہہ کر قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفت صمدیت کے متعلق ایک شبہ کا بھی ازالہ کر دیا۔وہ شبہ یہ پیدا ہوتا تھا کہ بے شک مان لیا کہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر کوئی کام سر انجام نہیں دیا جا سکتا۔مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ اس کی طاقت کبھی ختم ہو جائے۔کیا ایسا کوئی امکان اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق تو نہیں؟ اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے تعمیلہ میں دیا اور بتایا کہ اگر آئندہ اس کی طاقتیں ختم ہونے والی ہوتیں تو اس کا قائم مقام کوئی وجود پیدا ہوتا۔مگر اُس نے کوئی بیٹا نہیں جنا۔اور بیٹوں سے وہی چیزیں مستغنی ہوتی ہیں جو اپنی ضرورت کے آخر تک 1085