نُورِ ہدایت — Page 1083
محنت ، توکل اور دعا کا سبق سکھایا گیا ہے۔ا حضرت عائشہؓ سے روایت کی گئی ہے کہ رسول کریم یا لیم جب رات کو بستر میں لیٹتے تو آپ دونوں ہتھیلیاں جمع کرتے اور قُلْ هُوَ اللهُ أحد۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس پڑھنے کے بعد ہتھیلیوں میں پھونکتے اور پھر سارے بدن پر مل لیتے۔اور یہ فعل آپ تین مرتبہ کرتے۔رسول کریم علیل لیلی نے ان تینوں سورتوں کو اکٹھا پڑھنے اور ان کے ذریعہ دعا کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا جو قرآن مجید کے آخر میں رکھی گئی ہیں گہرا اشتراک ہے۔سورۃ الاخلاص میں توحید کامل کا ثبوت ہے اور دوسری دوسورتوں میں دعاؤں کا ذکر ہے۔قرآن کریم کی آخری تین سورتوں کا باہم جوڑ اور اشتراک ہے اور ان میں یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے تو حید کو سمجھنا چاہئے۔اس کے بعد دعائے کامل پیدا ہوگی اور جب دعائے کامل پیدا ہوگی تو پھر شر کا خاتمہ ہوگا۔سورۃ الاخلاص ہے تو بہت مختصر لیکن اس میں کامل توحید کو پیش کیا گیا ہے۔چنانچہ اس میں تین امور کو پیش کیا ہے۔1۔خدا تعالیٰ کی ذات کو کہ وہ موجود ہے۔2۔خدا تعالی کے ذات میں منفر د ہونے کو یعنی یہ کہ وہ اکیلا ہے اور یہ کہ دو یا تین خدا نہیں۔3۔خدا تعالیٰ کے واحد فی الصفات ہونے کو۔یعنی یہ کہ اس کی صفات میں کوئی ہمسری نہیں کرسکتا۔خدا تعالیٰ کے متعلق جو یقینی بات ہے اس کا نقطہ مرکزی یہ ہے کہ اللہ احد۔اللہ کی ذات ایسی ہے کہ ہر رنگ میں اور ہر طرح اپنے وجود میں ایک ہی ہے۔نہ وہ کسی کی ابتدائی کڑی ہے اور نہ آخری سرا۔نہ کسی کے مشابہ ہے اور نہ کوئی اس کے مشابہ۔احد کا لفظ اپنے اندر عجیب خصوصیت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں کسی رنگ میں 1083