نُورِ ہدایت — Page 1082
ہے تو دوسری سورۃ پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔اس پر انصاری نے کہا کہ میں تو سورۃ الاخلاص کو پڑھنا نہیں چھوڑ سکتا خواہ مجھے امامت سے فارغ کر دو۔اور چونکہ اس محلہ میں افضل ترین شخص نماز پڑھانے کے لئے وہی تھے اس لئے اُن کو امامت سے الگ نہ کیا گیا۔ہاں رسول کریم علی جب اس محلہ میں تشریف لے گئے تو آپ کی خدمت میں معاملہ پیش کر دیا گیا۔تب رسول کریم علیم نے اس انصاری شخص سے اس سورۃ کو ہر رکعت میں پڑھنے کی وجہ دریافت کی تو اس صحابی نے جواب دیا اني احبها یعنی میں اس سورۃ کے مطالب سے محبت رکھتا ہوں۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی توحید کو لئے ہوئے ہے۔اس پر رسول کریم علیم نے فرمایا حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ۔(فتح البیان) کہ تمہارے اس سورت سے محبت کرنے نے تم کو جنت میں داخل کر دیا۔پس رسول کریم علی ایم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر خالص توحید پر قائم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل تو گل رکھے تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔اسی طرح روایات میں آیا ہے۔۔۔ایک شخص رسول کریم عیلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی محتاجی کی شکایت کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ جب تو گھر میں داخل ہو اور گھر میں کوئی موجود ہو تو اس کو السّلامُ عَلَيْكُمْ کہا کرو۔اور اگرگھر میں کوئی موجود نہ ہو تو اپنے نفس پر سلام بھیجو اور اس کے بعد قُلْ هُوَ الله احد ایک دفعہ پڑھو۔روایات میں آتا ہے کہ اس شخص نے آپ کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ اس کی غربت دُور ہو گئی۔بلکہ اس کے پاس روپیہ اور مال کی اتنی کثرت ہوگئی کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور ہمسایوں کی بھی مدد کرتا تھا۔حقیقت یہی ہے کہ جب انسان کو علم ہو کہ ایک خدا ہے جوسب طاقتوں کا مالک ہے۔وہ میرے کام میں برکت ڈال سکتا ہے۔تو اس پر توکل کرے گا اور اُسی کے آگے جھکے گا۔اور جب محنت اور دعا کسی کے اندر جمع ہو جائیں تو اس کی مشکلات دور ہو جاتی ہیں۔اور اس روایت میں 1082