نُورِ ہدایت — Page 1008
فطرت کے لحاظ سے تو شرک پر ہی قائم تھے۔مگر جب نصرت اور فتح کے ذریعہ سے اسلام کی صداقت روز روشن کی طرح ظاہر ہو گئی تو ان کو حالات نے مجبور کر کے اسلام کی طرف دھکیل دیا۔پس با وجود ان کے اسلام لے آنے کے وَلا أَنتُمْ عَبدُونَ مَا أَعْبُدُ والی آیت جھوٹی نہیں ہوئی بلکہ سورۃ کوثر بھی سچی۔سورہ نصر بھی سچی اور سورۃ کافرون بھی سچی ہوئی۔لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِينِ سورۃ کافرون کی پہلی پانچ آیات میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اعلان کر دیں کہ کفار کے ساتھ ان کا اتحاد فی العبادۃ ناممکن ہے۔زیر تفسیر آیت لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِيْنِ میں ایسا اعلان کرنے کا سبب بتایا گیا ہے۔اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کا یہ اعلان دھینگا مشتی کا فعل نہیں۔نہ کسی عناد کے نتیجہ میں ایسا کیا گیا ہے۔بلکہ یہ اعلان اس بات کا نتیجہ ہے کہ کفار کا دین اُن کے لئے عبادت کا اور طریق مقرر کرتا ہے اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کا دین اُن کے لئے عبادت کا اور طریق مقرر کرتا ہے۔اور چونکہ ہر دوطریق کار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اس لئے دونوں فریق کا اجتماع فی العبادة ناممکن ہے۔سورۃ کافرون کی ابتدائی آیات میں پہلے ایک اصولی فیصلہ کا اعلان کیا گیا ہے۔اور پھر اس اعلان کی دلیل لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِینِ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔لغات میں لفظ دین کے گیارہ معنے لکھے گئے ہیں اور وہ سارے کے سارے اس آیت پر چسپاں ہوتے ہیں اور ان معنوں کو چسپاں کرنے کے بعد یہ مضمون واضح ہو جاتا ہے کہ کس طرح اس سوال کو جو قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَفِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ کے بعد طبعا دل میں پیدا ہوتا تھا شامل کر دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین مجبور ہیں کہ وہ اعلان کر دیں کہ وہ اپنے مذہب کے اصولِ عبادت کو چھوڑ کر کفار کے ساتھ متحد فی العبادۃ نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کی زبردست وجوہات ہیں جو اختصارا لفظ دین میں ہی 1008