نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1009 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1009

بیان کر دی گئی ہیں اور جن کا ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔اول مسلمان جس قادر و قیوم ہستی کو مانتے ہیں اُن کے نزدیک اس کی اطاعت کے اصول اور ہیں اور کافروں کے نزدیک اُن کے معبودوں کی پیروی کے اصول اور۔(دین بمعلی الطاعَةُ) دوم۔مسلمانوں کا طریق عبادت اور ہے اور کافروں کا طریق عبادت اور۔(دين بمعنى ما يُعْبَدُ بِهِ الله) سوم۔مسلمانوں کے اصول حکومت اور ہیں اور کافروں کے اور۔(دین بمعنى السُّلْطَانُ وَ الْمُلْكُ وَالْحُكْمُ چہارم۔مسلمانوں کے نزدیک تقویٰ اور نیکی اور بدی کی تعریف اور ہے اور کافروں کے نزدیک اور۔اسی طرح مسلمانوں کے نزدیک حلال اور حرام کے اصول اور ہیں اور کافروں کے نزدیک اور۔(دِين بمعنى الْوَرَعُ وَالْمَعْصِيَةُ) پنجم۔مسلمانوں کے لوگوں سے معاشرت کے اصول اور ہیں اور کافروں کے اور۔(دین بمعنى الشيرَةُ) ششم۔مسلمانوں کی تدبیر اور ہے اور کافروں کی اور۔(دین بمعنی التدبير) ہشتم۔مسلمانوں کے روز مرہ کے کاموں کے اصول اور ہیں اور کافروں کے اور۔(دین بمعنى الحال) گو بالكُمْ دِينُكُمْ وَلِی دِيْنِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کے نہ اصول ملتے ہیں۔اور نہ طریق کار۔اس لئے مسلمانوں کی طرف سے یہ اعلان کہ ہم کفار کے ساتھ عبادت میں اتحاد نہیں کر سکتے بالکل صحیح اور درست ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔( مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر کبیرزیر سورۃ الکافرون ) خلاصہ کلام یہ کہ سورۃ کافرون میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ سبق سکھایا ہے کہ انہیں 1009