نُورِ ہدایت — Page 1007
صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو اختیار نہیں کریں گے۔ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے وہ پیشگوئی جھوٹی نہیں نکلی۔کیونکہ وہ مسلمان اپنی مرضی سے نہیں ہوئے۔بلکہ اِنَّ شَانِقَك هُوَ الابتر کی پیشگوئی کے ماتحت خدا تعالیٰ نے ان کو پکڑ کر مسلمان کیا اور خدائی تصرف کے ماتحت وہ ایمان لائے۔پس عرب کا مسلمان ہو جانا قرآن کریم کے دعوی کے خلاف نہیں بلکہ قرآنی دعویٰ کی تصدیق ہے۔اسی طرح میں نے یہ بیان کیا تھا کہ اس سورۃ کے بعد کی جو سورۃ ہے وہ بھی ان دعاوی کی دلیل ہے جو قُلْ يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ کے شروع میں بیان کئے گئے ہیں۔لا قُلْ يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ کے بعد کی یہ سورۃ ہے کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَ الْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا یعنی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تجھے حاصل ہوگی اور عرب پر غلبہ تجھے عطا ہو جائے گا اور تو دیکھے گا کہ فوج در فوج عرب لوگ دین اسلام میں داخل ہوں گے۔یہ آیت بھی سورۃ کافرون کی اس پہلی آیت کی دلیل ہے کہ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَفِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تعْبُدُونَ۔یہ ظاہر ہے کہ جب باوجود کمزوری کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ دشمنانِ اسلام پر فتح بخشے گا اور ہزاروں ہزار آدمی مسلمان ہو جائیں گے۔تو اس نشان کے دیکھنے کے بعد کوئی مسلمان کفار کی طرف جاہی کس طرح سکتا ہے۔یہ تو روحانی بات ہوئی۔ظاہری سبب کو بھی اگر دیکھو تو انسان اگر کسی کی طرف جاتا ہے تو لالچ کی وجہ سے جاتا ہے۔جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو جائے گا اور کفار خود مسلمانوں کے محتاج ہو جائیں گے تو ایسا کون بیوقوف مسلمان ہو سکتا ہے جو ان مقہور اور مغلوب کفار کے ساتھ ملے اور فاتحین کا ساتھ چھوڑ دے؟ پس سورۃ کوثر بھی جو اس سے پہلے ہے اور سورہ نصر بھی جو اس کے بعد ہے دونوں سورۃ کافرون کی پہلی آیتوں کے لئے بطور دلیل ہیں۔اسی طرح اس سورۃ کا جو دوسرا حصہ ہے کہ وَلَا أَنتُم عبدُونَ مَا أَعْبُدُ اس کا بھی حل إِذَا جَاء نَصْرُ الله وَ الْفَتْحُ سے ہوجاتا ہے۔یعنی کفار اپنی 1007