نُورِ ہدایت — Page 1000
نہیں رہتا۔اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان جن خیالات پر سوتا ہے وہ بہت مضبوطی کے ساتھ اس کے ذہن میں راسخ ہو جاتے ہیں۔اسلام ہی ہے جس نے یہ نکتہ سب سے پہلے بیان کیا۔مگر مسلمان ہی ہیں جو اس نکتہ کو بھول گئے ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جس وقت تم اپنے دنیوی کاموں سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹو تو اور تمام باتوں کی طرف سے توجہ ہٹا کر کچھ دعائیں پڑھا کرو اور انہی کو سوچتے سوچتے سو جایا کرو۔اگر انسان سوتے وقت بعض اعلی قسم کی دعائیں اور تسبیح اور تحمید کے کلمات دہراتے ہوئے اور سوچتے ہوئے سو جائے تو یقیناً اس کے دماغ میں رات کے فارغ اوقات میں وہی خیالات اور وہی باتیں گھومتی رہیں گی۔نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک لمبے عرصہ تک ان خیالات کے دماغ میں گھومنے کی وجہ سے وہ جڑ پکڑ جائیں گے اور مضبوطی سے قائم ہو جائیں گے اور آسانی سے نکالے نہیں جاسکیں گے۔اور انسان کا ایمان مضبوط ہو جائے گا اور اس کو استقلال کی توفیق ملے گی۔حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلا اَدلُّكُمْ عَلَى كَلِمَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنَ الْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ تَقْرَءُوْنَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَفِرُونَ عِنْدَ مَنَامِكُمْ۔یعنی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تم کو اللہ تعالی کے شرک سے بالکل بچالے۔وہ بات یہ ہے کہ سوتے وقت تم قُلْ يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ پڑھو۔خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم جب لیٹتے تو قل يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ پڑھا کرتے تھے ( یعنی ساری سورۃ ) اور ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا تھا کہ آپ لیٹیں اور قُلْ يَا أَيُّهَا الكَفِرُون کی ساری کی ساری سورۃ نہ پڑھیں۔اس سورۃ کے فضائل کے متعلق جبیر بن مطعم سے بھی ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اتُحِبُّ يا جُبَيْرُ إِذَا خَرَجْتَ سَفَرًا أَنْ تَكُونَ أَمْثَلَ أَصْحَابِكَ هَيْئَةً وَاكْثَرَهُمْ زَادًا یعنی اے جبیر کیا تم پسند کرتے ہو کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو اپنے ساتھیوں میں سے سب سے زیادہ شان تمہارے ساتھ ہو۔جبیر نے عرض کیا یا رسول اللہ ہاں! 1000