نُورِ ہدایت — Page 999
دین کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ یہ کہنے سے کہ خدا تعالیٰ کی محبت بڑی اہم چیز ہے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دین کے نصف حصہ کا ذکر ہو گیا۔اب اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔پس قُل هُوَ الله احد کو تلت قرآن قرار دینا یا قُلْ يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ کو ربع قرار دینے کے معنے یہی ہیں کہ ان کے مطالب نہایت اہم ہیں۔اور اگر ان کے مطالب پر صحیح طور پر غور کیا جائے تو دین کی بہت سی مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔مثلاً قُل هُوَ اللهُ أَحَدٌ میں توحید پر زور ہے۔حقیقت یہی ہے کہ توحید مذہب کی جان ہے۔اگر کوئی شخص تو حید کو اچھی طرح سمجھ لے تو مذہب کا بہت سا حصہ اُس پر روشن ہو جاتا ہے اور اس کی فطرت اُسے مذہب کی بہت سی تفصیلات کی طرف خود را ہنمائی کر دیتی ہے۔اسی طرح قُلْ يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ میں مذہب پر استقلال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اور اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ سچائی کے مان لینے سے سچائی پر قائم رہنا کم اہم نہیں۔جتنی خرابی دنیا میں سچائی کے نہ ماننے سے پیدا ہوتی ہے اتنی ہی یا اس سے زیادہ خرابی سچائی پر قائم ندرہ سکنے سے پیدا ہوتی ہے۔مسند احمد حنبل، مسند ابو داؤد اور سنن ترمذی اور سنن نسائی میں لکھا ہے۔نوفل بن معاویہ الا اشجعی نے ایک دن کہا۔یا رسول اللہ ! مجھے وہ بات سکھائیے جو میں بستر پر لیٹتے وقت کہا کروں۔قالَ اقْرَءُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَفِرُونَ ثُمَّ لَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشَّرَكِ۔آپ نے فرما یا قُلْ يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ پڑھا کرو اور پھر اس کے آخری حصہ کو پڑھتے پڑھتے سو جایا کرو۔کیونکہ ان میں شرک سے بیزاری کا ذکر ہے۔اس حدیث سے بھی میرے اُس استدلال کی تصدیق ہو جاتی ہے جو میں نے اوپر کیا ہے۔مومن کا یہ پختہ ارادہ کہ وہ کبھی بھی باطل کو قبول نہیں کرے گا اور خواہ کچھ ہو جائے وہ سچ کو نہیں چھوڑے گا ایک حیرت انگیز طاقت اس کے اندر پیدا کردیتا ہے۔اگر اس کے بجائے لوگ یہ ارادہ کرلیں کہ ہم اپنے سابق خیالات یا اپنے باپ دادا کے خیالات کو نہیں چھوڑیں گے یا مولویوں کے خیالات کو نہیں چھوڑیں گے تو پھر ان کی تباہی اور بربادی میں کوئی شک وشبہ ہی 999