نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1001 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1001

اس پر آپ نے فرمایا تب تم سفر میں یہ پانچ سورتیں پڑھا کرو۔یعنی سورۃ الکافرون سے لے کر قُلْ أَعُوذُ بِرَتِ النَّاس تک۔سورۃ الکافرون سے آخر تک چھ سورتیں ہیں۔پس یا تو پانچ کے یہ معنے ہیں کہ سورہ سبت کو اس گنتی میں سے آپ نے نکال دیا ہے اور یا پھر الکافرون کے بعد کی سورتوں کو آپ نے پانچ قرار دیا ہے یا پانچ راوی کی غلطی ہے اور مراد یہ ہے کہ الکافرون سمیت چھ یا الکافرون کو نکال کر اس کے بعد کی پانچ سورتیں۔پھر آپ نے فرمایا جب پڑھنا شروع کرو تو بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ پڑھ کر تلاوت شروع کیا کرو یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ بسم اللہ الرّحمنِ الرَّحِيمِ ہر سورۃ کا حصہ ہے ) جبیر کہتے ہیں کہ میں مال دار نہ تھا اور جب میں سفر کرتا تھا تو سب ساتھیوں سے بُرا حال میرا ہوتا تھا۔اور سب سے کم زاد میرے پاس ہوتا تھا۔مگر اس کے بعد ان سورتوں کی برکت کی وجہ سے میرا حال سب ساتھیوں سے اچھا ہو گیا اور سب سے زیادہ زاد میرے پاس ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کی سورتوں کے پڑھنے میں برکات ہیں۔جو شخص قرآن کریم پڑھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پر اپنا فضل نازل کرتا ہے مگر اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ ان سورتوں میں زیادہ تر غیر مذاہب کا مقابلہ ہے اور اپنی کمزوریوں کو دُور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور مصائب کے وقت میں استقلال قائم رکھنے کی تلقین ہے اور توحید پر زور دیا گیا ہے اور باہمی لڑائی اور جھگڑے سے روکا گیا ہے۔اور جب انسان ان مضامین کو بار بار اپنے ذہن میں لاتا ہے تو اس کے اندر یہ خصلتیں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور ان خصلتوں کی وقت اور اہمیت بھی اس پر ثابت ہوتی چلی جاتی ہے۔اور جب وہ ان خصلتوں پر عمل کرتا ہے تو غیروں کی نگاہ میں معزز ہوجاتا ہے اور اپنوں کی نگاہ میں اتحاد کا باعث بن جاتا ہے۔جب بھی غیر دیکھیں کہ یہ شخص ہمارے حالات سے مرعوب ہو گیا ہے تو ان کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور اس کی قوم کی عزت ان کی نظروں سے گر جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جبیر سے یہ بات فرمائی کہ تم یہ سورتیں پڑھو تو تمہارا رعب بڑھ جائے گا۔اس سے درحقیقت اسی طرف اشارہ تھا کہ ان سورتوں میں اسلام کی 1001