نُورِ ہدایت — Page 92
عَلَيْهِم صرف ان یہودیوں کا نام ہے جنہوں نے حضرت مسیح کو ایذا دی تھی اور حدیثوں میں آخری زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا ہے یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکفیر و توہین کی تھی۔اور اس دُعا میں ہے کہ یا الہی ! ہمیں وہ فرقہ مت بنا جن کا نام مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہے۔پس دُعا کے رنگ میں یہ ایک پیشگوئی ہے جو دوخبر پر مشتمل ہے۔ایک یہ کہ اس امت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہوگا۔اور دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ بعض لوگ اس امت میں سے اُس کی بھی تکفیر اور توہین کریں گے اور وہ لوگ مورد غضب الہی ہوں گے اور اس وقت کا نشان یہ ہے کہ فتنہ نصاری بھی اُن دنوں میں حد سے بڑھا ہوا ہوگا۔جن کا نام ضالین ہے اور ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگر چہ خدا تعالی کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنوا نہیں ہوئے مگر اس غضب کے آثار قیامت کو ظاہر ہوں گے۔اور اس جگہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِم سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر بوجہ تکفیر و توہین و ایذ او ارادہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الہی نازل ہوگا۔یہ میرے جانی دشمنوں کے لئے قرآن کی پیشگوئی ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحه 212، 213) ضالین سے مراد صرف گمراہ نہیں بلکہ وہ عیسائی مراد ہیں جو افراط محبت کی وجہ سے حضرت عیسی کی شان میں غلو کرتے ہیں۔کیونکہ ضلالت کے یہ بھی معنے ہیں کہ افراط محبت سے ایک شخص کو ایسا اختیار کیا جائے کہ دوسرے کا عزت کے ساتھ نام سُننے کی بھی برداشت نہ رہے جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے مراد ہیں کہ انَّكَ لَفِي ضَلَلِكَ الْقَدِيمِ (يوسف 96)۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد 17 صفحه 269 حاشیه در حاشیه ) ضالین پر اس سورۃ کو ختم کیا ہے۔یعنی ساتویں آیت پر جو ضالین کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی۔یہ سورۃ در حقیقت بڑے دقائق اور حقائق کی جامع ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں۔اور اس سورۃ کی یہ دعا که اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ 92