نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 91 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 91

یا درکھو اور خوب یا درکھو کہ سورۃ فاتحہ میں صرف دوفتنوں سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی ہے۔(1) اوّل یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کافر قرار دینا۔اُس کی توہین کرنا۔اُس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا۔اُس کے قتل کا فتویٰ دینا۔جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ علیہم میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے۔(2) دوسرے نصاریٰ کے فتنے سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاری ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔غرض اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس عاجز کی نسبت قرآن شریف نے اپنی پہلی سورۃ میں ہی گواہی دے دی اور نہ ثابت کرنا چاہئے کہ کن مَغْضُوبِ عَلَيْهِم سے اِس سورۃ میں ڈرایا گیا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حدیث اور قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بعض علماء کو یہود سے نسبت دی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِم سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ اور مسیح موعود تھے کا فرٹھہرایا تھا اور اُن کی سخت تو بین کی تھی اور اُن کے پرائیویٹ امور میں افترائی طور پر نقص ظاہر کئے تھے۔پس جبکہ یہی لفظ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا ان یہودیوں کے مشیلوں پر بولا گیا جن کا نام بوجہ تکفیر و توہین حضرت مسیح مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ رکھا گیا تھا۔پس اس جگہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے پورے مفہوم کو پیش نظر رکھ کر جب سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ آنے والے مسیح موعود کی نسبت صاف اور صریح پیشگوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے پہلے مسیح کی طرح ایڈا اٹھائے گا۔اور یہ دُعا کہ یا الہی ہمیں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہونے سے بچا۔اس کے قطعی، یقینی یہی معنے ہیں کہ ہمیں اس سے بچا کہ ہم تیرے مسیح موعود کو جو پہلے مسیح کا مثیل ہے ایذا نہ دیں اُس کو کافر نہ ٹھہرائیں۔ان معنوں کے لئے یہ قرینہ کافی ہے کہ مَغْضُوبِ 91