نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 93 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 93

عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ یہ صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اس امت کے لئے ایک آنے والے گروہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کے ظہور سے اور دوسرے گروہ ضالین کے غلبہ کے زمانہ میں ایک سخت ابتلا در پیش ہے جس سے بچنے کے لئے پانچ وقت دعا کرنی چاہئے۔اور یہ دعا سورۃ فاتحہ کی اس طور پر سکھائی گئی کہ پہلے الْحَمْدُ لِلَّهِ سے مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک خدا کے محامد اور صفات جمالیہ اور جلالیہ ظاہر فرمائے گئے تا دل بول اٹھے کہ وہی معبود ہے۔چنانچہ انسانی فطرت نے ان پاک صفات کا دلدادہ ہو کر ایاک نعبد کا اقرار کیا اور پھر اپنی کمزوری کو دیکھا تو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنا پڑا۔اور پھر خدا سے مدد پا کر یہ دعا کی جو جمیع اقسام شر سے بچنے کے لئے اور جمیع اقسام خیر کو جمع کرنے کے لئے کافی و وافی ہے۔یعنی یہ دعا کہ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔آمين۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 284 285 حاشیہ) خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وہ دنبال جس سے ڈرایا گیا ہے وہ آخری زمانہ کے گمراہ پادری ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کا طریق چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ اس نے سوره ممدوحہ میں یہی دعا سکھلائی ہے کہ ہم خدا سے چاہتے ہیں کہ ایسے یہودی نہ بن جائیں جن پر حضرت عیسیٰ کی نافرمانی اور عداوت سے غضب نازل ہوا تھا اور نہ ایسے عیسائی بن جائیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ کی تعلیم کو چھوڑ کر اس کو خدا بنا دیا تھا اور ایک ایسا جھوٹ اختیار کیا جو تمام جھوٹوں سے بڑھ کر ہے اور اس کی تائید میں حد سے زیادہ فریب اور مکر استعمال میں لائے۔اس لئے آسمان پر ان کا نام دخال رکھا گیا اگر کوئی اور دجال ہوتا تو اس آیت میں اس سے پناہ مانگنی ضروری تھی یعنی سورۃ فاتحہ میں بجائے وَلَا الضَّالین کے ولا الدجال ہونا چاہئے تھا اور یہی معنی واقعات نے ظاہر کئے ہیں کیونکہ جس آخری فتنہ سے ڈرایا گیا تھا زمانہ نے اسی فتنہ کو پیش کیا ہے جو تثلیث پر غلو کرنے کا فتنہ ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 323 حاشیہ ) 93