نظام وصیت — Page 79
79 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ بلکہ انہوں نے بھی نہ سمجھا جن کے سپر د اس کا نظام کیا گیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسی ایسی وصیتیں کی گئیں کہ ایک شخص کی ماہوار آمدنی تو کئی سو کی تھی مگر اس کا مکان بہت معمولی حیثیت کا تھا اس نے مکان کی وصیت کر دی اور لکھ دیا کہ اس کا ۱۰ / ا حصہ وصیت میں دیتا ہوں۔حالانکہ اگر اندازہ لگایا جاتا تو مکان کا جو حصہ وصیت میں دیا گیا وہ اتنی مالیت کا بھی نہیں تھا کہ ماہوار آمدنی کا بتیسواں (۳۲) حصہ ہی بن سکتا۔میں نے اس کی اصلاح کی میں نے کہا مقبرہ بہشتی کی غرض یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگوں کو جمع کیا جائے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں مگر کون خیال کر سکتا ہے کہ ایک شخص جو دو تین چار سو روپیہ ماہوار کماتا ہے مگر باپ دادا سے ورثہ میں آئے ہوئے معمولی مکان کے دسویں حصہ کی وصیت کر دیتا ہے تو یہ اس کے لئے بہت بڑی قربانی ہے اور وہ ایسے مخلصوں میں شامل ہو جاتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں گے اور جن کے متعلق آئندہ نسلوں کا فرض ہو گا کہ خاص طور پر دعا کریں۔اگر ایسے آدمی کو کوئی مخلص اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا سمجھتا ہے تو وہ جھوٹا نہیں تو میں اسے بے وقوف ضرور کہوں گا اور سمجھا جائے گا کہ اس کے دماغ میں نقص پیدا ہو گیا ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو وصیت کا نظام اس لئے قائم کیا ہے کہ مخلصوں کی جماعت کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے مگر ان مخلصوں میں ایسے شخص کو شامل کیا جاتا ہے جو ہر مہینہ اپنے لباس یا کھانے یا اپنی بیوی بچوں کے لباس یا کھانے پر جتنا صرف کرتا ہے اتنا یا اس سے بھی کم چندہ دے دیتا ہے یہ کامل الایمان ہونے کی علامت نہیں ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی ایسی وصیتیں نکلی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہوار آمدنی کو چھوڑ کر معمولی مکان کی وصیت کرنے کا طریق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی منشاء کے مطابق نہ تھا۔مثلاً ایک شخص وصیت کرتا ہے جس کا معمولی مکان تھا اس نے اپنی وصیت میں لکھا کہ اس وقت میری کوئی جائیداد نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ملازم ہوں میری تنخواہ چار روپے ہے اس کا دسواں حصہ صدر انجمن احمدیہ کی خدمت میں ادا کرتا رہوں گا۔یا اگر آئندہ میری کوئی اور جائیداد یا تنخواہ بڑھ جائے تو اس کے متعلق بھی میری یہی وصیت ہے۔اور میرا ایک مکان ریاست