نظام وصیت — Page 78
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 78 ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ وصیت کرنا اور اس پر قائم رہ کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہونا دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے اقرار کو پورا کرنا ہے۔اس وصیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حد بندی کر دی ہے۔اور وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ ۳/ احصہ کی وصیت کی جائے اور کم از کم ۱۰/ احصہ کی۔یہ تو مرنے کے بعد کے متعلق ہے اور زندگی میں یہ ہے کہ خدا تعالی کی راہ میں انسان اس حد تک خرچ کر سکتا ہے کہ وہ رشتہ دار جو اس کے ذریعہ پل رہے ہوں انہیں دوسروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔اس شرط کے ماتحت خواہ وہ اپنا نصف مال دے دے یا تین چوتھائی دے دے مگر اتنا دے کہ جن لوگوں کی پرورش اس کے ذمہ ہے وہ دوسروں کے محتاج نہ ہو جائیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ایک ذریعہ رکھا ہے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنے کا۔جس وقت آپ نے یہ طریق بیان کیا اسی وقت یہ بھی لکھ دیا تھا کہ ممکن ہے کہ بعض آدمی جن پر بد گمانی کا مادہ غالب ہو وہ اس کا روائی میں ہمیں اعتراضوں کا نشانہ بناویں۔اور اس انتظام کو اغراض نفسانیہ پر مبنی سمجھیں یا اس کو بدعت قرار دیں۔لیکن یادر ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ چنا نچہ مخالفین نے اس پر ہنسی اور تمسخر کیا اور کہا پاک پتن کے بہشتی دروازہ کی طرح یہ بہشتی مقبرہ بنالیا گیا ہے حالانکہ اس دروازہ اور بہشتی مقبرہ میں بہت فرق ہے۔اپنے مال کی وصیت کرنا علامت ہے نیکی اور تقویٰ کی۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اقرار چاہتا تھا کہ اس کا کوئی ظاہری ثبوت ہو اس کی علامت وصیت رکھی گئی اور یہ دائمی قربانی ہے۔یعنی جب تک انسان زندہ رہتا ہے اسے یہ قربانی کرنی پڑتی ہے مگر دروازہ سے گذر جانا تو معمولی بات ہے اس کے لئے کوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی۔تو وصیت معیار ہے مؤمنوں کے ایمان کو پر کھنے کا مگر باوجود اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زور دینے کے بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تک اس کی عظمت سے واقف نہیں ہیں۔اور جس طرح قاعدہ ہے کہ جب کوئی نیا نظام قائم ہوتا ہے اور نیا مسئلہ جاری ہوتا ہے تو اکثر لوگ اس کے سمجھنے میں کوتاہی کرتے ہیں اسی طرح بہت سے لوگوں نے وصیت کے معاملہ کی حقیقت کو بھی نہ سمجھا