نظام وصیت

by Other Authors

Page 80 of 260

نظام وصیت — Page 80

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 80 مالیر کوٹلہ میں ہے وہ خاص میری ملکیت ہے۔اس میں اور کسی کا کوئی حصہ اور نہ حق ہے اس کے آٹھواں حصہ کی بھی انجمن احمد یہ مالک ہے۔“ چونکہ مکان آمد پیدا کرنے والا نہ تھا اس لئے اسے وصیت کے لحاظ سے جائیداد نہ قرار دیا گیا۔تو وصیت کے لئے دسواں حصہ سے مراد اسی آمد کا دسواں حصہ ہے جس پر گزارہ ہو۔ایک زمیندار ہے اگر وہ اپنی زمین کا دسواں حصہ وصیت میں دے دیتا ہے تو وہ وصیت کا حق ادا کر دیتا ہے کیونکہ اس کے گذارہ کا ذریعہ زمین ہی ہے۔مگر ایک ملازم جو تین چارسو ماہوار تنخواہ پاتا ہے یا ایک تاجر جسے تجارت کی آمدنی ہے وہ اگر وصیت میں جدی مکان کا کچھ حصہ دیکر پچاس یا ساٹھ یا سور و پیہ دے دیتا ہے تو وہ وصیت کے منشاء کو پورا نہیں کرتا۔وصیت کے لحاظ سے وہ جائیداد والا نہ تھا اس کی آمد تھی اسے آمد سے وصیت کا حصہ دینا چاہیے تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ترکہ کا لفظ رکھا ہے یعنی وصیت کرنے والے کے ”تمام ترکہ سے مقررہ حصہ وصیت میں لیا جائے۔پھر کیا اگر کوئی شخص صرف دھوتی اور گرتا چھوڑ مرے تو اسی کو اس کا ترکہ قرار دیا جائے گا اور پھر اس کا دسواں حصہ لے کر سمجھ لیا جائے گا کہ اس نے وصیت کا حق ادا کر دیا۔پس جب کپڑوں کا ایک جوڑا بھی ترکہ کہلا سکتا ہے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہر ایک صالح جو اسکی کوئی بھی جائیداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کرسکتا۔اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا۔تو وہ اس قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے۔“ اس کا کیا مطلب ہوا؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا منشاء جائیداد نہ ہونے سے یہ تھا کہ ایسا شخص جو ننگا پھرتا ہو اسے بغیر وصیت کے دفن کیا جائے۔دنیا کے ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ تک چلے جاؤ کوئی ایسا انسان نظر نہ آئے گا جو اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھتا ہو۔اپنے اردگر درسی ہی لیٹے ہوئے ہوگا یا کیلے کے پتے ہی باندھے ہوئے ہو گا وہی اس کا ترکہ اور جائیداد ہوگی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کہنا کہ جس کی جائیداد نہ ہو اس کا تقویٰ اور خدمت دین دیکھی جائے گی