نظام وصیت — Page 51
51 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کی زبان سے بھی کہلوا دیا۔پھر 19 جنوری 1908 کو یہ الہام ہوتا ہے کہ اِنِّي مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِكَ هذه بعض متشکلکین جو ہمیشہ کریدتے رہتے ہیں کہہ سکتے ہیں کہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آدم کہا ہے۔اب جس طرح اس سے مراد اصل آدم نہیں اسی طرح اہل سے مراد بھی اصل بیوی نہیں بلکہ یہاں جماعت مراد ہے۔پس اس الہام کے ذریعہ ایسے لوگوں کی تسلی کر دی اور الہام میں بتا دیا کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں جو یہ ہے یعنی اس بیوی کے ساتھ ہوں۔جماعت تو ایک تھی دو نہیں تھیں۔اس لئے ھذہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔بیویاں دو تھیں اس لئے هذہ کہہ کر یہ بات پکی کر دی کہ یہ وعدے خاص حضرت اماں جان کے ساتھ ہیں۔پھر 19 مارچ 1907 کو خواب میں دیکھا حضرت اماں جان آئی ہیں اور آپ کہتی ہیں کہ "میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے یہ بھی اسی طرف اشارہ تھا کہ تم وفات پاؤ گے اور یہ صبر کا پورانمونہ دکھا ئیں گی۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو جواب میں کہا اس سے تو تم پر خحسن چڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس فعل کو پسند کر کے تمہیں درجہ اور زینت عطا کی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام تھا کہ "اسی یا اس پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم اس الہام پر بعض غیر احمدی ملنٹے اعتراض کرتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں۔خدا تعالیٰ کو تو شک نہیں پڑتا۔کیا خدا تعالیٰ کو 85 یا 75 اور 76 کے ہند سے نہیں آتے۔یہ کیا الہام ہے کہ "استی یا استی پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم " یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں لیکن یہ مولوی بھول جاتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ یہ غلطی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی کی ہے کیونکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ حضرت یونس کی نسبت فرماتا ہے وَاَرْسَلْنَهُ إِلى مِائَةِ أَلْفِ اَو يَزِيدُونَ یونس کو ہم نے لاکھ یا شاید لاکھ سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا۔اب کیا خدا تعالیٰ کو لاکھ کا ہندسہ نہیں آتا تھا۔جس خدا کو لاکھ کا ہندسہ نہیں آتا اس کو اسی کا ہندسہ بھی بھول سکتا ہے۔کوئی بات نہیں۔اصل سوال تو بھول چوک ہے۔جب بھول چوک ثابت ہو گئی تو اسی اور لاکھ کا کیا سوال ہے۔