نظام وصیت

by Other Authors

Page 52 of 260

نظام وصیت — Page 52

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 52 دراصل یہ حماقت کی بات ہے۔یہاں کلام میں تحسین پیدا کرنے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔حسن کلام کے لئے ڈیفینیٹ (DEFINITE) بات پہلے بیان نہیں کی بلکہ الفاظ سے اس طرف اشارہ کر دیا ہے کہ تم اسے لاکھ کہہ لو یا لاکھ سے زیادہ کہہ لو۔مطلب یہ ہے کہ ہیں زیادہ۔تو ایسے موقع پر اعداد کو ہ بیان نہیں کیا جاتا۔اگر خدا تعالیٰ یہاں لاکھ کہہ دیتا تو لوگ کہتے اس کا ثبوت دو کہ وہ واقعی ایک لاکھ تھے۔پس ایک طرف لاکھ یا کچھ زیادہ کہ کر کلام میں حُسن پیدا کر دیا اور دوسرے اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اندازہ ہے اور اندازہ پر کوئی کیا اعتراض کرے گا۔پس اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے حُسنِ کلام کے لئے قرآن کریم میں مائةِ ألف أو يَزِيدُون لاکھ یالا کھ سے کچھ زیادہ کہا ہے۔اسی طرح یہاں بھی حُسنِ کلام کے لئے یہ طریق اختیار کیا گیا ہے لیکن اس کا ایک دوسرا جواب بھی ہے جو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے يا أَحْمَدُ اسْكُنُ أنتَ وَزَوْجُكَ الجَنَّةَ کہہ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان کو ایک قبر میں دفن کیا ہے اور دونوں کو ایک جگہ رکھا ہے گویا دونوں وجودوں کو ایک وجود قرار دیا ہے اور عمر کے الہام میں دونوں ہی کی عمر بتائی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام 75 سال کی عمر میں فوت ہوئے یعنی استی سے پانچ سال کم اور حضرت اماں جان 85 سال کی عمر میں فوت ہوئیں یعنی اتنی سے پانچ سال زیادہ۔گویا الہام میں جو وحدت وجود بتائی گئی تھی اس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان دونوں کے وجود ہیں۔ایک اسی سال سے پانچ سال پہلے فوت ہو جاتا ہے اور ایک اسی سے پانچ سال بعد فوت ہوتا ہے گو یا الہام میں جس وجود کو ثو“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا اس کا ایک حصہ اسی سے پانچ سال کم میں فوت ہو گیا اور ایک حصہ اسی سے پانچ سال زیادہ عمر پا کر فوت ہو گیا اب یہ کتنی زبر دست پیشگوئی بن جاتی ہے اور کس طرح اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دراصل یہ دو پیشگوئیاں ہیں اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس وجود کو ہم نے ایک قرار دیا تھا اس کا ایک حصہ اسی سے پانچ سال کم عمر پا کر فوت ہو گیا اور ایک حصہ اسی سے پانچ سال زیادہ عمر میں فوت ہو گیا۔اب یہ کسی کے اختیار کی بات نہیں تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام 75 سال کی عمر میں