نظام وصیت

by Other Authors

Page 50 of 260

نظام وصیت — Page 50

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 50 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے قادیان میں پیدا کیا جو ایک گمنام بستی تھی۔آپ کو ایک ایسے خاندان میں پیدا کیا جو اس زمانہ کے اعلیٰ درجہ کے خاندانوں میں سے ایک تھا پھر ایک پیر خاندان میں رشتہ کیا جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ ہمیں وہ کمال ملا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کسی کو نہیں ملا۔پھر بڑی مشکل یہ تھی کہ حضرت اماں جان کے والد حضرت میر ناصر نواب صاحب اہل حدیث تھے اور حضرت مسیح موعود اہل حدیث کے نام سے گھبراتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ ان لوگوں میں روحانیت نہیں ہوتی یہ لوگ متشكك ہوتے ہیں اس خاندان میں آپ کی شادی ہوئی۔شادی سے پہلے بیوی کا ذکر الہامات میں آتا ہے لیکن جب شادی ہو جاتی ہے تو یہ ذکر ختم ہو جاتا ہے۔پھر عین تمیں سال کے بعد جب حضرت مسیح موعود کی وفات کا وقت قریب آتا ہے تو پھر الہامات میں بیوی کا ذکر آجاتا ہے۔یہ کون سے اتفاق کی بات ہے۔یہ تو ایک بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ غیب کی طاقت نے یہ خبر دی۔پہلے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔اب واقعہ کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ اس کا کیا مطلب تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے عین قریب بیوی کا ذکر آتا ہے یعنی إِنِّي مَعَكَ وَ مَعَ أَهْلِكَ -۔إِنِّي مَعَكَ وَ مَعَ اهلك کے الہامات بار بار ہوتے ہیں۔اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی خبر دی جارہی تھی تو ساتھ ہی آپ کو یہ تسلی دی جا رہی تھی کہ تمہارے بعد تمہاری بیوی کے ہم خود کفیل ہوں گے اور حضرت اماں جان کو بھی یہ تسلی دی کہ گوتم سے تمہارا خاوند جُدا ہو گا مگر ہم خدا نہیں ہوں گے۔ہم تیرے ساتھ ہوں گے اور تیرے خود کفیل ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے پہلے تو آپ کا ذہن اس طرف نہیں جاسکتا تھا لیکن آپ کی وفات کے بعد جو فقرہ حضرت اماں جان کی زبان پر بار بار آیا وہ یہی تھا کہ اے خدا! انہوں نے تو مجھے چھوڑ دیا ہے مگر تو مجھے نہ چھوڑنا۔یہ وہی مفہوم تھا جو الہام إِنِّي مَعَكَ وَ مَعَ أَهْلِكَ میں بیان کیا گیا تھا کہ ہم تیرے ساتھ ہوں گے اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں گے اور پھر حضرت اماں جان