نظام وصیت

by Other Authors

Page 49 of 260

نظام وصیت — Page 49

49 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کیونکہ آپ خود تو قادیان میں دفن ہوئے اور حضرت اماں جان یہاں ربوہ میں دفن ہوئیں اور یا اس الہام نے یہ بتادیا ہے کہ یہ مقبرہ بھی بہشتی مقبرہ ہے اور قادیان کے بہشتی مقبرہ کا ہی ایک حصہ ہے۔گویا اس بہشتی مقبرہ کے بنانے میں جو مشکل میرے سامنے آئی تھی الہی فعل نے اسے حل کر دیا۔میں مامور نہیں تھا ، میری زبان بند تھی ، ہمیں ایسے مقام پر نہیں تھا کہ اس اعتراض کا جواب دے سکوں۔سو خدا تعالیٰ نے حضرت اماں جان کو یہاں دفن کر کے ان لوگوں کا منہ بند کر دیا۔اب انہیں یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کہ يا آدَمُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الحنة اوريا أحْمَدُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الحَنْةَ جھوٹا تھا کیونکہ آدم وہاں دفن ہیں اور توا یہاں۔احمد وہاں دفن ہیں اور ان کی بیوی یہاں اور یا پھر یہ مانا پڑے گا کہ یہ جگہ بھی بہشتی مقبرہ ہے۔غرض اس الہام نے یہ واضح کر دیا کہ میرا قدم خدا تعالیٰ کی منشا کے عین مطابق تھا۔اسی طرح وہ پہلی پیشگوئیوں کے بھی عین مطابق تھا۔اس مقبرہ کو بلا کم و کاست وہی پوزیشن حاصل ہے جو مقبرہ بہشتی قادیان کو حاصل ہے۔پورے سو فیصدی سو میں سے ایک حصہ بھی کم نہیں ورنہ یا آدَمُ اسْكُنُ أنتَ وَزَوْجُكَ الجَنَّةَ والی بات نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹی تھی۔اوپر کے الہامات کے علاوہ ایک اور الہام بھی تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا اور وہ یہ ہے إِنِّي مَعَكَ وَ مَعَ أَهْلِكَ ـ یہ الہام 20 ستمبر 1907 کو ہوا اور تذکرہ صفحہ 677 پر درج ہے یعنی میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں اور اہل میں سے سب سے مقدم بیوی ہوتی ہے۔پھر یہی الہام 21 ستمبر 1907 کو بھی ہوا۔5 نومبر 1907 کو بھی ہوا پھر 2 دسمبر 1907 کو بھی یہ الہام ہوا۔گویا ایک سال کی آخری چہارما ہی میں یہ الہام چار دفعہ ہوا۔اب عجیب بات یہ ہے کہ ایک تو شادی سے پہلے یہ الہامات ہوئے جن میں حضرت اماں جان کا ذکر تھا، پھر شادی کے قریب الہام ہوا، پھر یہ سلسلہ ایک لمبے عرصہ تک بند رہا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہونے والی تھی تو بیوی کا ذکر دوبارہ شروع ہو گیا۔یہ کتنا بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس کو تو ارد کون کہہ سکتا۔ہے۔