نظام وصیت

by Other Authors

Page 18 of 260

نظام وصیت — Page 18

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 18 بعض شخصوں کے دل میں خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ آئے دن ہم پر ٹیکس لگائے جاتے ہیں کہاں تک برداشت کریں۔میں جانتا ہوں کہ ہر شخص ایسا دل نہیں رکھتا کیونکہ ایک طبیعت کے ہی سب نہیں ہوتے۔بہت سے تنگدل اور کم ظرف ہوتے ہیں اور اس قسم کی باتیں کر بیٹھتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا کیا ہے۔ایسے شبہات ہمیشہ دنیا داری کے رنگ میں پیدا ہوا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو تو فیق بھی نہیں ملتی۔لیکن جو لوگ محض خدا تعالیٰ کے لیے قدم اٹھاتے ہیں اور اس کی مرضی کو مقدم کرتے ہیں اور اس بناء پر جو کچھ بھی خدمت دین کرتے ہیں اس کے لیے اللہ تعالیٰ خود انہیں توفیق دے دیتا ہے۔اور اعلاء کلمۃ الاسلام کے لیے جن اموال کو وہ خرچ کرتے ہیں ان میں برکت رکھ دیتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور جو لوگ صدق اور اخلاص سے قدم اٹھاتے ہیں انہوں نے دیکھا ہو گا کہ کس طرح پر اندر ہی اندر انہیں تو فیق دی جاتی ہے۔وہ شخص بڑا نادان ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ آئے دن ہم پر بوجھ پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے وَلِلهِ خَزَائِنُ السَّمَواتِ وَالأرض (المنافقون: 8) یعنی خدا تعالیٰ کے پاس آسمان و زمین کے خزانے ہیں منافق ان کو سمجھ نہیں سکتے لیکن مومن اس پر ایمان لاتا اور یقین کرتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر سب لوگ جو اس وقت موجود ہیں اور اس سلسلہ میں داخل ہیں یہ سمجھ کر کہ آئے دن ہم پر بوجھ پڑتا ہے وہ دست بردار ہو جائیں اور بخل سے یہ کہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ ایک اور قوم پیدا کر دے گا جو ان سب اخراجات کا بوجھ خوشی ہم جوان سے اٹھائے اور پھر بھی سلسلہ کا احسان مانے۔( ملفوظات۔جلد 4 صفحہ 651,650 ) | ہم اپنے نفس کے لیے کچھ نہیں چاہتے۔بارہا یہ خیال کیا ہے کہ اپنے گزارہ کے لیے تو پانچ سات روپیہ ماہوار کافی ہیں اور جائیداد اس سے زیادہ ہے پھر میں جو بار بار تاکید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے کیونکہ اسلام اس وقت تنزل کی حالت میں ہے بیرونی اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر طبیعت بے قرار ہو جاتی ہے۔اور