نظام وصیت — Page 17
17 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ اس سے میری مراد یہ ہے کہ ان لوگوں میں جو مسلمان کہلاتے ہیں اور اسلام کے مدعی ہیں روحانیت موجود نہیں ہے اور اس پر دوسری بد قسمتی یہ کہ وہ انکار کر بیٹھے ہیں کہ اب کوئی ہو ہی نہیں سکتا جس سے خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ ہو اور وہ خدا تعالیٰ پر زندہ اور تازہ یقین پیدا کر سکے۔ایسی حالت اور صورت میں اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ اسلام کے چہرہ پر سے وہ تاریک حجاب ہٹادے اور اس کی روشنی سے دلوں کو منور کرے اور ان بے جا اتہامات اور حملوں سے جو آئے دن مخالف اس پر لگاتے اور کرتے ہیں اسے محفوظ کیا جاوے۔اس غرض سے یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ مسلمان اپنا نمونہ دکھاویں۔یہی وجہ ہے جو میں نے پسند کیا ہے کہ ایسے لوگ جو اشاعتِ اسلام کا جوش دل میں رکھتے ہیں اور جو اپنے صدق اور اخلاص کا نمونہ دکھا کر فوت ہوں اور اس مقبرہ میں دفن ہوں اُن کی قبروں پر ایک کتبہ لگا دیا جاوے جس میں اس کے مختصر سوانح ہوں اور اس اخلاص و وفا کا بھی کچھ ذکر ہو جو اس نے اپنی زندگی میں دکھایا تا جو لوگ اس قبرستان میں آویں اور ان کتبوں کو پڑھیں اُن پر ایک اثر ہو اور مخالف قوموں پر بھی ایسے صادقوں اور راستبازوں کے نمونے دیکھ کر ایک خاص اثر پیدا ہو۔اگر یہ بھی اسی قدر کرتے ہیں جس قدر مخالف قو میں کر رہی ہیں اور وہ لوگ کر رہے ہیں جن کے پاس حق اور حقیقت نہیں تو انہوں نے کیا کیا۔پھر انہیں تو ایسی حالت میں شرمندہ ہونا چاہیے۔لعنت ہے ایسے بیعت میں داخل ہونے پر جو کا فرجتنی بھی غیرت نہ رکھتا ہو۔اسلام اس وقت یتیم ہو گیا ہے اور کوئی اس کا سر پرست نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو اختیار کیا اور پسند فرمایا کہ وہ اس کی سر پرست ہو اور وہ ہر طرح سے ثابت کر کے دکھائے کہ اسلام کی سچی غمگسار اور ہمدرد ہے۔وہ چاہتا ہے کہ یہی قوم ہوگی جو بعد میں آنے والوں کے لیے نمونہ ٹھہرے گی۔اس کے ثمرات برکات آنے والوں کے لیے ہوں گے اور زمانہ پر محیط ہو جائیں گے۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہ جماعت بڑھے گی لیکن وہ لوگ جو بعد میں آئیں گے ان مدارج اور مراتب کو نہ پائیں گے جو اس وقت والوں کو ملیں گے۔خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا کہ وہ اس جماعت کو بڑھائے اور وہ دین اسلام اور توحید کی اشاعت کا باعث بنے۔( ملفوظات۔جلد 4 صفحہ 618,617