نظام وصیت — Page 11
11 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کر کے میرے حکم کو ٹال دیں گے مگر بہت جلد دنیا سے جدا کیے جائیں گے تب آخری وقت میں کہیں گے هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُونَ ( يس : 53) الوصیت - روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 329,328) مرکر خدا کے حضور جانا ہے کیا املاک اور جائیدادیں سر پر اٹھا کر لے جاؤ گے یقیناً یا درکھو کہ خدا ہے اور مرکر اس کے حضور ہی جانا ہے کون کہہ سکتا ہے کہ سال آئندہ کے انہیں دنوں میں ہم میں سے یہاں کون ہو گا اور کون آگے چلا جائے گا۔جبکہ یہ حالت ہے اور یہ یقینی امر ہے پھر کس قدر بد قسمتی ہوگی اگر اپنی زندگی میں قدرت اور طاقت رکھتے ہوئے اس اصل مقصد کے لیے سعی نہ کریں۔اسلام تو ضرور پھیلے گا اور وہ غالب آئے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا ہے مگر مبارک ہوں گے وہ لوگ جو اس اشاعت میں حصہ لیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے جو اُس نے تمہیں موقعہ دیا ہے۔یہ زندگی جس پر فخر کیا جاتا ہے بیچ ہے اور ہمیشہ کی خوشی کی وہی زندگی ہے جو مرنے کے بعد عطا ہو گی۔ہاں یہ بیچ ہے کہ وہ اسی دنیا اور اسی زندگی سے شروع ہو جاتی ہے اور اس کی تیاری بھی یہاں ہی ہوتی ہے۔عرصہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا تھا کہ ایک بہشتی مقبرہ ہو گا گویا اس میں وہ لوگ داخل ہوں گے جواللہ تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں جنتی ہیں۔پھر اس کے متعلق الہام ہوا۔أُنْزِلَ فِيْهَا كُلُّ رَحْمَةٍ۔اس سے کوئی نعمت اور رحمت باہر نہیں رہتی۔اب جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایسی رحمت کے نزول کی جگہ میں دفن ہو کیا عمدہ موقعہ ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کر لے اور اللہ تعالی کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کر لے۔یہ صدی جس کے تمھیں سال گزرنے کو ہیں گزر جائے گی اور اس کے آخر تک موجودہ نسل میں سے کوئی نہ رہے گا اور اگر نکما ہو کر رہا تو کیا فائدہ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنا صدقہ پہلے بھیجو۔یہ لفظ صدقہ کا صدق سے لیا گیا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی کامل نمونہ اپنے