نظام وصیت — Page 10
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 10 کی راہ تحقیر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔اور پھر فرمایا " زندگیوں کا خاتمہ۔اور پھر مجھے مخاطب کر کے فرما يا قَالَ رَبُّكَ إِنَّهُ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا يُرُضِيُكَ رَحْمَةً مِّنَّا وَ كَانَ أَمْراً مَّقْضِيًّا یعنی تیرا رب کہتا ہے کہ ایک امر آسمان سے اترے گا جس سے تو خوش ہو جائے گا۔یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور یہ فیصلہ شدہ بات ہے جو ابتدا سے مقد رتھی اور ضرور ہے کہ آسمان اُس امر کے نازل کرنے سے رُکار ہے جب تک یہ پیشگوئی قوموں میں شائع ہو جائے۔کون ہے جو ہماری باتوں پر ایمان لاوے بجز اس کے کہ خوش قسمت ہو۔یاد رہے کہ یہ اعلان تشویش کے پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ آئندہ تشویش کی پیش بندی کے لیے ہے تا کوئی بے خبری میں ہلاک نہ ہو۔الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 315,314 ) بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ بلاؤں کے دن نزدیک ہیں اور ایک سخت زلزلہ جو زمین کو تہ و بالا کر دے گا قریب ہے پس وہ جو معائنہ عذاب سے پہلے اپنا تارک الدنیا ہونا ثابت کرائیں گے اور نیز یہ بھی ثابت کر دیں گے کہ کس طرح انہوں نے میرے حکم کی تعمیل کی خدا کے نزدیک حقیقی مومن وہی ہیں اور اُس کے دفتر میں سابقین اولین لکھے جائیں گے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ زمانہ قریب ہے کہ ایک منافق جس نے دنیا سے محبت کر کے اس حکم کو ٹال دیا ہے وہ عذاب کے وقت آہ مار کر کہے گا کہ کاش میں تمام جائیداد کیا منقولہ اور کیا غیر منقولہ خدا کی راہ میں دے دیتا اور اس عذاب سے بچ جاتا۔یا د رکھو کہ اس عذاب کے معائنہ کے بعد ایمان بے سود ہوگا اور صدقہ خیرات محض عبث۔دیکھو میں بہت قریب عذاب کی تمہیں خبر دیتا ہوں اپنے لیے وہ زاد جلد تر جمع کرو کہ کام آوے میں یہ نہیں چاہتا کہ تم سے کوئی مال لوں اور اپنے قبضہ میں کرلوں بلکہ تم اشاعت دین کے لیے ایک انجمن کے حوالہ اپنا مال کرو گے اور بہشتی زندگی پاؤ گے بہتیرے ایسے ہیں کہ وہ دنیا سے محبت