نظام وصیت

by Other Authors

Page 213 of 260

نظام وصیت — Page 213

213 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ جائیں تو وہ چھ ماہ سے زیادہ کی تو نہیں ہوسکتیں۔اس طرح خاص طور پر موصیان کی وصیت پر زد پڑتی ہے تو پھر ظاہر ہے ان کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور پھر اس تکلیف کا اظہار بھی کرتے ہیں۔تو اس لئے پہلے ہی چاہئے کہ سوچ سمجھ کر اپنے حسابات صاف رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے کئے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔اور جب بھی آمد ہو اس آمد میں جو حصہ بھی ہے نکالیں ، موصی صاحبان بھی اور دوسرے کمانے والے بھی جنہوں نے چندہ عام دینا ہے، اپنا چندہ اپنی آمد میں سے ساتھ کے ساتھ ادا کرتے رہا کریں۔(روز نامہ الفضل 24 اگست 2004 صفحہ 3 سب سے پہلے مجلس عاملہ کو وصیت کے نظام میں شامل کریں میٹنگ نیشنل مجلس عاملہ سوئٹزر لینڈ (6 ستمبر 2004) : نیشنل مجلس عاملہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ میٹنگ میں حضور انور نے موصیان کی تعداد کا بھی جائزہ لیا اور ہدایت فرمائی کہ سب سے پہلے اپنی مجلس عاملہ کو وصیت کے نظام میں شامل کریں۔اس طرح دوسری جماعتوں کے عہدیدار بھی وصیت کے نظام میں شامل ہوں۔الفضل انٹر نیشنل 1 اکتوبر 2004 صفحہ 12 ) جب خیال ہو کہ مجھے اس مال کی ضرورت ہے تب قربانی کی جائے (خطبہ جمعہ 10 ستمبر 2004 ء بمقام بیت السلام، برسلز ( جیم ) وصیت کے ضمن میں بھی میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ جوانی میں یا اچھی عمر میں جب اچھی کمائی ہو رہی ہو ، مال ہو، اس وقت وصیت نہیں کرتے اور بڑھاپے کے وقت جب مرنے کا بالکل قریب وقت ہوتا ہے تو وصیت کے فارم فل (Fill) کرتے ہیں اور شکوہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری وصیت منظور نہیں ہوئی تو نیکی جب کرنی ہے تو نیکی کرنے کی عمر یہی ہے کہ اچھے حالات میں نیکی کی جائے جب خیال ہو کہ مجھے اس کی ضرورت ہے تب 1/10 حصہ کی قربانی کی جائے۔“ الفضل انٹرنیشنل 24 ستمبر 2004 صفحہ 9،8 )