نظام وصیت

by Other Authors

Page 212 of 260

نظام وصیت — Page 212

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 212 ہمت اور کوشش پر نازمت کرو اور مت سمجھو کہ ہماری کامیابی کسی قابلیت اور محنت کا نتیجہ ہے۔بلکہ یہ سوچو کہ اس رحیم خدا نے جو کبھی کسی کی سچی محنت کو ضائع نہیں کرتا ہے ہماری محنت کو بار آور کیا۔“ پھر فرمایا: ” اس لئے واجب اور ضروری ہے کہ ہر کامیابی پر مومن خدا کے حضور سجدات شکر بجالائے کہ اس نے محنت کو اکارت تو نہیں جانے دیا۔اس شکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ سے محبت بڑھے گی اور ایمان میں ترقی ہوگی اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی کامیابیاں ملیں گی۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو البتہ میں نعمتوں کو زیادہ کروں گا۔اور اگر کفران نعمت کرو گے تو یاد رکھو کہ عذاب سخت میں گرفتار ہو گے۔اس اصول کو ہمیشہ مد نظر رکھو۔مومن کا کام یہ ہے کسی کامیابی پر جو اسے دی جاتی ہے شرمندہ ہوتا ہے اور خدا کی حمد کرتا ہے کہ اس نے اپنا فضل کیا اور اس طرح پر وہ قدم آگے رکھتا ہے اور ہر ابتلاء میں وہ ثابت قدم رہ کر ایمان پاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 98-99 جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ شکر گزار بندہ بنائے۔حضرت اقدس مسیح موعود کی نصائح پر عمل کرنے والا بنائے۔تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے چھوٹی سے چھوٹی نعمت سے لے کر بڑی بڑی نعمتوں کے ملنے پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے بنیں۔اس کے شکر گزار رہیں۔ہمیشہ عہد شکور بنے رہیں اور۔نظام خلافت اور نظام جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں۔اور اس کے لئے قربانیاں بھی دیتے چلے جائیں اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔الفضل انٹر نیشنل 20 اگست 2004 ، صفحہ 12,11 ) اپنے حسابات صاف رکھیں اور اپنا چند وہ آمد میں سے ساتھ کے ساتھ اداء کرتے رہا کریں ( خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 2004ء بمقام گروس گراؤ۔جرمنی) خاص طور پر موصی صاحبان کے لئے میں یہاں کہتا ہوں، ان کو تو خاص طور پر اس بارے میں بڑی احتیاط کرنی چاہئے۔اس انتظار میں نہ بیٹھے رہیں کہ دفتر ہمارا حساب بھیجے گا یا شعبہ مال یاد کروائے گا تو پھر ہم نے چندہ ادا کرنا ہے کیونکہ پھر یہ بڑھتے بڑھتے اس قدر ہو جاتا ہے کہ پھر دینے میں مشکل پیش آتی ہے۔چندے کی ادائیگی میں مشکل پیش آتی ہے۔پھر اتنی طاقت ہی نہیں رہتی کہ یکمشت چندہ ادا کر سکیں۔اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ کچھ رعایت کی جائے اور رعایت کی قسطیں بھی اگر مقرر کی