نظام وصیت

by Other Authors

Page 211 of 260

نظام وصیت — Page 211

211 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ایسا نظام جاری کیا جائے جس سے افراد جماعت میں تقویٰ بھی پیدا ہو اور اس میں ترقی بھی ہو اور دوسرے مالی قربانی کا بھی ایسا نظام جاری ہو جائے جس سے کھرے اور کھوٹے میں تمیز ہو جائے اور جماعت کی مالی ضروریات بھی باحسن پوری ہو سکیں۔اس لئے وصیت کا نظام جاری فرمایا تھا۔تو اس لحاظ سے میرے نزدیک میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ نظام خلافت اور کا بڑا گہراتعلق ہے اور ضروری نہیں کہ ضروریات کے تحت پہلے خلفاء جس طرح تحریکات کرتے رہے ہیں، آئندہ بھی اسی طرح مالی تحریکات ہوتی رہیں بلکہ کو اب اتنا فعال ہو جانا چاہیئے کہ سوسال بعد تقویٰ کے معیار بجائے گرنے کے نہ صرف قائم رہیں بلکہ بڑھیں اور اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں اور قربانیاں کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں۔یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے پیدا ہوتے رہیں۔جب اس طرح کے معیار قائم ہوں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ خلافت حقہ بھی قائم رہے گی اور جماعتی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں گی۔کیونکہ متقیوں کی جماعت کے ساتھ ہی خلافت کا ایک بہت بڑا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کی توفیق دے اور ہمیشہ خلافت کی نعمت کا شکر ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں اور کوئی احمدی بھی ناشکری کرنے والا نہ ہو۔کبھی دنیاداری میں اتنے محو نہ ہو جائیں کہ دین کو بھلادیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بچی راحت دنیا اور دنیا کی چیزوں میں ہرگز نہیں ہے۔حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے تمام شعبے دیکھ کر بھی انسان سچا اور دانگی سرور حاصل نہیں کر سکتا۔تم دیکھتے ہو کہ دولتمند زیادہ مال و دولت رکھنے والے ہر وقت خنداں رہتے ہیں۔“ نیز فرمایا کہ: ”مگر ان کی حالت جرب یعنی خارش کے مریض کی سی ہوتی ہے جس کو کھجلانے سے راحت ملتی ہے۔کھجلی کا مریض جب کھجلی کرتا ہے تو اس کو بڑا مزا آرہا ہوتا ہے ) لیکن اس خارش کا آخری نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ خون نکل آتا ہے۔پس ان دنیوی اور عارضی کا میابیوں پر اس قدرخوش مت ہو کہ حقیقی کامیابی سے دور چلے جاؤ بلکہ ان کامیابیوں کو خداشناسی کا ایک ذریعہ قراردو، اپنی