نظام وصیت

by Other Authors

Page 178 of 260

نظام وصیت — Page 178

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 178 کو نظر انداز کر دینے سے پیدا ہوئی ہے۔کے قیام کا ایک بڑا مقصد عالمگیر غلبہ اسلام کی خاطر غیر معمولی قربانی کی صورت میں سلسلہ حقہ کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مالی مدد کرنا بھی تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ جن موصوں کے حوالہ سے آپ نے معاملہ اٹھایا ہے انہیں وصیت کرنے سے پہلے یہ بات بتائی نہیں گئی۔لیکن اب میں اس بارہ میں سختی سے عمل کروا رہا ہوں۔اور جو وصیتیں کی بنیادی روح کو نظر انداز رکھنے کے نتیجہ میں منظور ہو چکی ہیں ان پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت بھی کر چکا ہوں۔پس جن کو عام قربانی سے بڑھ کر غیر معمولی قربانی کی توفیق نہیں ہے۔اور وہ اگر اس وجہ سے میں نہ رہ سکیں تو ان کا کوئی قصور نہیں ہوگا۔غربت کی وجہ سے اگر کوئی اس نظام میں شامل ہونے کی توفیق نہیں پاسکتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔جزاء سزا ء اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے اس لئے فکر نہ کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔( رجسٹر ارشادات حضور ایدہ اللہ۔رجسٹر نمبر 3۔ارشاد نمبر (300 سلسلہ کی نظر روپیہ پر نہیں آخری حساب دفتر وصیت میں نہیں بلکہ یوم الحساب کو ہو گا ایک خط کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا کہ:- افسوس ہے کہ آپ ابھی تک وصیت سے متعلق سلسلہ کی مشکلات اور مجبوریوں کو سمجھ نہیں پائے۔بعض دفعہ ایک ایسے شخص کی وصیت بھی بلاتر در قبول کر لی جاتی ہے جس نے ساری عمر میں سلسلہ کو سو دوسو روپے سے زائد حصہ آمد وحصہ جائیداد میں ادا نہ کیا ہو۔بعض دفعہ لاکھوں کی وصیت والے کی وصیت بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے رد کر دی جاتی ہے کیونکہ سلسلہ کی نظر روپیہ پر نہیں بلکہ ان کڑی شرائط پر ہے جو وصیت کے ساتھ مامور زمانہ نے وابستہ کر دی ہیں لیکن اگر نعوذ باللہ تحقیق کے دوران یہ ثابت ہو کہ بعض ایسے معاملات کو موصی نے اخفاء میں رکھا جن کے متعلق اسکی عقل سلیم کے لئے یہ انتباہ کرنا ضروری تھا کہ یہ اخفاء تقویٰ کے خلاف ہے۔ایسے موصی کی وصیت کو خواہ اس سے لاکھوں کی