نظام وصیت — Page 177
177 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ اس پس منظر میں وصیتیں معلق ہوئیں اور دوبارہ چھان بین شروع ہوئی۔فی زمانہ روپے کی قیمت اتنی گر چکی ہے کہ اگر دس ہزار بھی حق مہر ہو تو عملاً اسے جائیداد قرار نہیں دیا جانا چاہیے لیکن چونکہ ایک دفعہ د میتیں قبول کی جا چکی تھیں اس لئے تا حال جماعت اس معاملہ میں بھی جہاں تک ممکن ہے نرمی سے کام لے رہی ہے مگر اس نرمی کی بہر حال کوئی حد ہونی چاہیے۔آپ کا یہ موقف بالکل غلط ہے کہ وصیت کا معیار محض تقویٰ ہے اور مالی قربانی کے عصر کو اس میں کوئی دخل نہیں۔مالی قربانی کے عصر کو لازما بہت بڑا دخل ہے۔صرف شرط یہ ہے کہ متقیوں سے یہ قربانی قبول کی جائے گی اور جن کو ظاہری نظر میں تقویٰ سے گرا دیکھا جائے گا(باطن کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ) ان سے یہ مالی قربانی قبول نہیں کی جائے گی۔آخری بات یہ ہے کہ بہت غیر معمولی حالات میں مجلس کار پرداز اگر متفقہ طور پر کسی مرحوم کے حق میں یہ سفارش کرے کہ اسکا تقویٰ کا معیار غیر معمولی تھا اور اس لائق تھا کہ اسے وصیت کی مالی قربانی کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تو اس صورت میں حضرت مسیح موعود کی ہدایت کی روشنی میں خلیفہ وقت مجاز ہے کہ وہ اس سفارش کو قبول کرے۔یا از خود استثنائی طور پر کسی کیلئے مقبرہ موصیان میں دفن ہونے کی اجازت دے دے۔آپ کے اصرار کی وجہ سے یہ فصیلی خط لکھوار ہا ہوں لیکن اس معاملہ میں براہ راست مزید کسی بحث میں نہیں المجھوں گا۔آئیندہ جو خط و کتابت کرنی ہو شعبہ متعلقہ سے کریں اور یاد رکھیں کہ بخشش کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ضروری نہیں کہ کوئی موصی ہی ہو تو بخشا جائے گا۔(رجسٹر ارشادات حضور ایدہ اللہ رجسٹر نمبر 3۔ارشاد نمبر (211) غربت کی وجہ سے اگر کوئی اس نظام میں شامل ہونے کی توفیق نہیں پا سکتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں مجلس عاملہ جماعت احمدیہ کر ڈا پلی انڈیا کی طرف سے حضور کی خدمت میں بعض امور تحریر کر کے بھجوائے گئے حضور نے بعد ملاحظہ تحریر فرمایا کہ:- آپکی مجلس عاملہ کا مشترکہ خط ملا۔آپ نے جو صورت حال بیان کی ہے یہ نظامِ وصیت کی بنیادی روح