نظام وصیت — Page 176
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 176 غلط مؤقف کہ وصیت کا معیار محض تقویٰ ہے ایک دوست نے اپنی والدہ کی وصیت کے بارہ میں نظام سلسلہ پر اعتراض کرتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الرابع کو خط لکھا جسکے جواب میں حضورا نور نے فرمایا:- آپ نے اپنی والدہ کی وصیت کے بارہ میں نظام سلسلہ پر اعتراض کئے ہیں جبکہ آ پکوان سب امور کا پورا علم ہی نہیں ہے۔ان امور پر تفصیلی طور پر صاحب علم اور متقی لوگوں کے اجلاسات ہو چکے ہیں اور حضرت مسیح موعود کے تمام ارشادات اور سلسلہ کے خلفاء کے ارشادات اور مجالس کی رپورٹیں دیکھنے کے بعد وہ ایک طریق کار طے کرتے ہیں۔لیکن آپ نے دو چار باتوں کے علم کے بعد ہی اعتراض شروع کر دیئے ہیں۔کیا آپکا خیال ہے کہ میں آپ سے ایک نئی لمبی بحث شروع کر دوں اور وہ ساری باتیں جو کئی سال کے غور کے بعد نتھر کر سامنے آئی ہیں ان کا سارا پس منظر آپ کے سامنے دوبارہ پیش کروں اس میں ہرگز شک نہیں کہ محض پیسے یا دولت کی وجہ سے کبھی کوئی وصیت منظور نہیں ہوتی اور ظاہری طور پر ایک متقیانہ مخلصانہ زندگی (جہاں تک انسان کے علم میں آسکتی ہے ) وصیت کی بنیادی روح ہے۔لیکن دوسری طرف مہمات دینیہ کے لئے غیر معمولی مالی قربانی بھی وصیت کے لئے نہایت ضروری ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے جائیداد کی 1/10 کی وصیت کے متعلق بڑی وضاحت سے بار بار تفسیر فرمائی۔جماعت نے ایک لمبے عرصہ کے غور کے بعد عورتوں سے رعایت برتنے کی خاطر عورت کے حق مہر کو بھی جائیداد قرار دے دیا تو یہ محض ایک رعایت تھی جو مہم شکل میں تھی اور یہ احتمالات اس وقت مد نظر نہیں رکھے گئے کہ اگر کسی عورت کا سو روپیہ یا پچاس روپیہ یا 32 روپے مزعومہ شرعی حق مہر ہو تو معقولات کی دنیا میں اسے کیسے جائیداد سمجھا جا سکتا ہے۔اس لحاظ ہو جا سے جب حضرت خلیفتہ امیج الثالث نے وصیتوں کا جائزہ لینے کی ہدایت فرمائی تو معلوم ہوا کہ عورتوں کی وصایا کی بھاری تعداد کی اس روح کے منافی ہے جو رسالہ الوصیت۔ثابت ہوتی ہے اور حق مہر کو جائیداد کا متبادل قرار دینے کا فیصلہ بہت بے احتیاطی سے غلط معنوں میں استعمال ہونا شروع ہو گیا ہے۔