نظام وصیت — Page 175
175 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کے متعلق بنیادی اور اصولی ہدایات پانچ معلق شدہ وصایا کی بحالی کے تعلق میں صدرانجمن احمدیہ کے فیصلہ جات پر مبنی رپورٹ حضور انور کی خدمت میں پیش ہونے پر حضور انور نے بنیادی اور اصولی ہدایات دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ:- جب کوئی فرد جماعت اپنے آپ کو میں شامل کرنے کی درخواست کرتا ہے تو سب سے اوّل یہ بات دیکھنی چاہیے کہ اس کی اخلاقی حالت ، دینداری اور عام شہرت کیسی ہے۔اگر یہ قابلِ اعتراض نہ ہو تو پھر اس کے بعد اس پہلو سے بھی جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا اس کی مالی حالت ایسی ہے کہ اگر اس کی وصیت منظور ہو جائے تو اس کو غیر معمولی قربانی قرار دیا جا سکے۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ کے قیام کا ایک بڑا مقصد عالمگیر غلبہء اسلام کے لئے غیر معمولی قربانی کی صورت میں جماعت کی مالی امداد کرنا بھی تھا۔اگر کسی فرد جماعت کی باقاعدہ کوئی آمد نہیں ہے اور وہ اپنے آپ کو میں شامل کرنے کا خواہاں ہے تو ایسی صورت میں یہ دیکھا جائے کہ کیا اس کی جائیداد اتنی ہے کہ اسے آمد کا متبادل قرار دیا جاسکے نیز یہ کہ اسکی جائیداد پر وصیت منظور ہونے کی صورت میں اسکی قربانی غیر معمولی قربانی کی شکل اختیار کر جائے۔لہذا آئیندہ سے اس ہدایت کو مد نظر رکھ کر نئی وصایا پر منظوری کی کاروائی ہونی چاہیے۔اس طریق سے مضبوط بنیادوں پر جو وصایا منظور ہونگی ان میں سے اگر بعد میں کوئی غریب بھی ہو جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں اور اسکی وصیت معلق یا منسوخ نہیں ہوگی۔سوائے اس کے کہ کوئی بالکل ہی لوگوں کے صدقہ و خیرات کا محتاج ہو جائے۔ایسی صورت میں وہ نظامِ وصیت میں شامل رہنے کا اہل نہیں رہتا۔( رجسٹر ارشادات حضور ایدہ اللہ تعالی۔رجسٹر نمبر 3 ارشاد نمبر (292