نظام نو — Page 92
نفع کم ہوگا اور کسی میں زیادہ۔ہمیں دنیا میں روزانہ یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ دوغلہ کے تاجر ہوتے ہیں ایک تو سارا دن بیٹھا مکھیاں مارتا رہتا ہے اور دوسرا ہر روز اپنی تجوری بھر کر گھر میں لے آتا ہے ایک شخص کپڑا بیچتا ہے تو روزانہ اس کے دو دو سو تھان نکل جاتے ہیں اور دوسرا وہی کام کرتا ہے تو سارے دن میں اس کا ایک تھان بھی نہیں نکلتا۔پس اس فرق کی وجہ سے نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی تاجر کے ملازموں کو ایک جیسی محنت پر زیادہ آمد ہوگی اور کسی کے ملازموں کو کم ہوگی یعنی ہوشیار مالک کے ملازموں کو زیادہ آمد ہو رہی ہوگی اور دوسرے کے ملازموں کوکم ، پس یہ تقسیم عقل کے بالکل خلاف ہوگی اس کے یہ معنے ہونگے کہ پہلے تو لیاقت پر آمد کا انحصار ہوتا تھا پھر صرف جوئے بازی اور اتفاق پر ہوگا اور پھر لوگ اس بات پر لڑیں گے کہ ہم فلاں مالک کے کارخانہ میں کام کرینگے فلاں کے کارخانہ میں کام نہیں کرینگے مگر اس کا فیصلہ کون کریگا کہ کوئی مزدور کہاں کام کرے۔اگر کہیں سوشلزم یہ انتظام کریگی کہ سب کارخانوں کے ملازموں کے لئے ایک اعلیٰ شرح تنخواہ مقرر کر دیگی تو پھر بھی زیادہ ہوشیار تا جر سوشلزم کے مجوزہ منافع سے زیادہ ہی لے لیگا اور دوسرا تاجر نقصان میں رہے گا اور اس طرح سوشلزم پھر بھی اپنی سکیم میں ناکام رہے گی اور جنکی تجارت اچھی نہ چلتی ہوگی انکے ملازم نفع کی جگہ اصل سرمایہ تک کھا جائینگے اصل بات یہ ہے کہ گزارہ کے دو ہی معقول طریق ہیں۔(۱) لیاقت اور (۲) اقل ضرورت گزارہ کی۔مگر یہ دونوں صورتیں اوپر کے بتائے ہوئے سوشلسٹ طریق میں نہیں پائی جاتیں۔غرباء کی ضروریات کو پورا کرنے کا دوسرا ذریعہ دوسری صورت سوشلزم یہ پیش کرتی ہے کہ تمام اہم صنعتیں حکومت کے قبضہ میں ہوں مثلاً ریل، کا نہیں اور بجلی وغیرہ۔اسی طرح اہم تجارتوں کی منا پلی اور ان پر قبضہ و تصرف حکومت کے اختیار میں ہو۔مگر اس پر بھی کئی اعتراض پڑتے ہیں۔مثلاً (۱) یہ تدبیر عالمگیر نہیں ہو سکتی بلکہ ہر ملک میں الگ الگ ہوگی حالانکہ سوال یہ تھا کہ ساری 92