نظام نو — Page 93
دنیا کے بھوکوں ، ساری دنیا کے نگوں ، ساری دنیا کے بیماروں،ساری دنیا کے جاہلوں اور ساری دنیا کے بے سر و سامان لوگوں کا انتظام کیا جائے مگر اس طرح ساری دنیا کے حاجتمندوں کا علاج تو پھر بھی نہ ہوگا ہر حکومت صرف اپنے ملک کے غرباء کا ہی خیال رکھے گی پس یہ تدبیر عالمگیر نہیں ہے۔دوسرے مثلاً اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ اسمیں بھی انفرادی جو ہر کے اظہار کے مواقع میں کمی آجاتی ہے اور اسطرح جسم کا خیال تو کیا جاتا ہے مگر دماغ جو زیادہ قیمتی ہے اسے نقصان پہنچ جاتا ہے۔غربا کی ضرورتوں کے لئے چندے حاصل کرنے کے متعلق ہٹلر اور گوئرنگ کی سکیم نیشنلسٹ سوشلزم کی اس بارہ میں مفصل سکیم مجھے معلوم نہیں لیکن ہٹلر ۳۲ اور گوئرنگ ۳۳ کی اس سکیم کا مجھے علم ہے کہ سرمایہ دار جو زیادہ حصہ قومی خدمت میں لیں انہیں حکومت کی امداد کے زیادہ مواقع بہم پہنچائے جائیں۔وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ حکومت کو زیادہ چندے دینگے اور قومی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے انکا خاص طور پر خیال رکھا جائیگا اور انہیں ٹھیکے وغیرہ دیئے جائیں گے لیکن یہ سکیم بھی مکمل نہیں کیونکہ اس طرح بھی پورا سرمایہ جو کافی ہو جمع نہیں ہوسکتا اور نیز اس میں یہ پہلو مذکور نہیں کہ ملک کی ضرورت کی ذمہ داری حکومت پر کس حد تک ہوگی۔بالشوزم کے نظریہ کی رو سے غرباء کی تکالیف دُور کرنے کی تدابیر بالشوزم کی تدبیر یہ ہے کہ سب اہم تجارتیں اور صنعتیں حکومت کے ہاتھ میں ہوں اور زراعت پیشہ کی سب زائد آمد حکومت جبر لے لے۔سب دولتمندوں کی دولت جبر ا چھین لے۔اس پر جو اعتراض پڑتے ہیں پہلے بتا آیا ہوں خلاصہ یہ کہ اس سے انفرادیت بالکل تباہ ہو جاتی ہے اور اس قسم کی حکومت میں جب ضعف آئیگا ہمیں معمولی تبدیلی پیدا نہ ہوگی بلکہ پھر زار جیسی حکومت قائم ہو جائے گی۔فرانس کا تجر بہ گواہ ہے بور بون خاندان نے فرانس میں فوزویت 93