نظام نو — Page 91
یہ تمام ضرورتیں پوری کر سکتا ہے اور یا ز کوۃ کے علاوہ کوئی اور علاج جو اسلام نے اس مصیبت کا کیا ہو پیش کیا جائے۔غرباء کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے زکوۃ کے علاوہ دوسرے چندوں کی ضرورت یہ ایک اہم سوال ہے جو اس موقعہ پر پیدا ہوتا ہے اور جس کی طرح توجہ کرنا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔اگر ہمارا یہ دعوی نہ ہوتا کہ اسلام ان تمام ضروریات کو پورا کرنے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتا ہے تو یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا مگر جب ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے یہ تعلیم دی کہ غریب اور امیر میں حقیقی مساوات قائم کرنی چاہیئے اور ان دونوں کو اس حد تک ایک دوسرے کے قریب کر دینا چاہیئے کہ یہ محسوس نہ ہو کہ وہ کوئی اور مخلوق ہے اور یہ کوئی اور مخلوق ہے بلکہ جس طرح اُمراء اپنی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں اسی طرح غرباء بھی اپنی ضرورتوں کو پورا کریں وہ علاج کے بغیر نہ رہیں، وہ بھوکے نہ رہیں، وہ ننگے نہ رہیں، وہ جاہل نہ رہیں ، وہ بغیر مکان کے نہ رہیں تو پھر ضروری ہو جاتا ہے کہ اس مشکل کا حل اسلامی تعلیم سے ہی کیا جائے۔زکوۃ کا اسلام نے حکم دیا تھا مگر میں تسلیم کر چکا ہوں کہ زکوۃ اس مشکل کا پورا علاج نہیں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام اس کمی کا کیا علاج تجویز کرتا ہے۔سوشلزم کے نظریہ کی رو سے غربا کی ضروریات کو پورا کر نیکا پہلا ذریعہ اور اس کے غلط ہونے کا ثبوت سوشلزم اس کا ذریعہ یہ بتاتی ہے کہ مزدوروں کا حصہ منافع میں مقرر کیا جائے یہ نہ ہو کہ انہیں ماہوار تنخواہ دی جائے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ بلکہ منافع پر ان کا انحصار ہونا چاہیئے یعنی جب منافع حاصل ہو تو فیصلہ کیا جائے کہ اس دفعہ ہمیں اتنی آمد ہوئی ہے اسمیں سے مالک کو اتنا حصہ دیا جائے اور مزدوروں کو اتنا حصہ دیا جائے مگر ظاہر ہے کہ یہ طریق بے اصولا ہے اس لئے کہ کسی تجارت میں 91