نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 129

نظام نو — Page 90

سے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ تمام تحریکات باوجود اختلاف کے اس امر میں متفق ہیں کہ حکومت کو ملک کے مال پر ایک بہت بڑا اقتدار حاصل ہونا چاہئے۔پرانے ٹیکس اس سکیم کو پورا نہیں کر سکے جو ان مختلف نظام والوں کے ذہن میں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اب نئے ٹیکس لگائے جائیں، نئے نئے طریق ایجاد کئے جائیں جن سے اُمراء کی دولت انکے ہاتھ سے نکالی جا سکے اور غربا میں تقسیم کی جاسکے پس وہ کہتے ہیں کہ اگر غریبوں کی ضرورتیں پوری کرنی ہیں تو ٹیکس بڑھانے پڑیں گے موجودہ ٹیکسوں سے یہ مشکل حل نہیں ہو سکتی اب سوال یہ ہے کہ اسلام نے اس بارہ میں کیا رویہ اختیار کیا ہے۔وہ کہتے ہیں تم نے زکوۃ کی تعلیم نکالی ہے مگر کیا تمہارے نز د یک زکوۃ اس غرض کو پورا کر سکتی ہے کہ ہر غریب کو کپڑا ملے ، ہر غریب کو کھانا ملے، ہر غریب کو مکان ملے اور ہر غریب کو دوا ملے؟ میرا دیانتدارانہ جواب یہ ہے کہ نہیں۔یعنی میرا دیانتدارانہ جواب یہ ہے کہ اس زمانہ کے لحاظ سے یقیناً حکومت کے ہاتھ میں اس سے زیادہ روپیہ ہونا چاہئے جتنا روپیہ پہلے اس کے ہاتھ میں زکوۃ وغیرہ کی صورت میں ہوا کرتا تھا۔پہلے گورنمنٹ پر صرف یہ ذمہ داریاں تھیں کہ وہ ٹیکس وصول کر کے سڑکیں بنائے ، ہسپتال بنائے، مدر سے بنائے ، فوجیں رکھے اور اسی طرح رعایا کی بہبودی کے لئے اور تدابیر عمل میں لائے مگر اب یہ ایک نئی ذمہ داری بھی گورنمنٹ پر عائد ہوتی ہے کہ دنیا نے اپنے طور پر غریبوں کو کھانا کھلا کر دیکھ لیا کہ وہ اسے نہیں کھلا سکی دنیا نے اپنے طور پر غریبوں کو کپڑے پہنا کر دیکھ لیا کہ وہ ان کی اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکی ، دنیا نے اپنے طور پر انکے لئے دوا مہیا کر نیکی کوشش کر لی مگر اسمیں وہ کامیاب نہیں ہو سکیسو اب یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ ان تمام ضروریات کو بھی گورنمنٹ پورا کرے۔وہ ہر شخص کو پہننے کے لئے کپڑا، کھانے کے لئے غذاء رہنے کے لئے مکان اور علاج کے لئے دو مہیا کرے اور اسلام بھی اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ تمام کام حکومت کے ذمہ ہیں۔پس جب یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ یہ کام حکومت کو کرنے چاہئیں اور جب اسلام بھی اسے تسلیم کرتا ہے تو یہ درست ہے کہ یا تو اسلام ہمیں یہ بتائے کہ زکوۃ کا روپیہ 90