نظام نو — Page 89
گڑھتا کہ کوئی مولوی اس پادری کو جواب نہیں دیتا آخر کچھ عرصہ کے بعد جب اس نے دیکھا کہ لوگوں پر برا اثر ہورہا ہے تو ایک دن جب وہ پادری وعظ کر رہا تھا وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ پادری صاحب ! میں نے آپ سے ایک بات کہنی ہے اُس نے بات سننے کے لئے اُس کی طرف سر جھکا دیا کہ کہو کیا کہتے ہو۔اس نے بجائے کوئی بات کہنے کے ہاتھ اٹھایا اور زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا۔پہلے تو پادری رکا مگر پھر اس نے سمجھا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ ایک اور تھپڑ لگا دے اس پر اس نے بھی اُسے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔وہ کہنے لگا صاحب! آپ یہ کیا کرتے ہیں آپکی تعلیم تو یہ ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دینا چاہیئے میں تو اس انتظار میں تھا کہ آپ اپنا دوسرا گال بھی میری طرف پھیر دینگے مگر آپ تو مقابلہ پر اتر آئی ہیں۔وہ کہنے لگا آج میں انجیل پر نہیں بلکہ تمہارے نبی کی تعلیم پر ہی عمل کرونگا۔بالشوزم کے نتیجہ میں ملک میں بغاوت پیدا ہونے کا اندیشہ تو بعض تعلیمیں کہنے کو بڑی اچھی ہوتی ہیں مگر عملی رنگ میں وہ نہایت ہی ناقص ہوتی ہیں۔اسی طرح بالشوزم کے موجودہ نظام پر نہیں جانا چاہیئے وہ اسوقت زار کے ظلموں کو یادر کھے ہوئے ہے جس دن یہ خیال ان کے دل سے بھولا پھر یہ طبعی احساس کہ ہماری خدمات کا ہم کو صلہ ملنا چاہیئے انکے دلوں میں پیدا ہو جائے گا نئی پود بغاوت کریگی اور اس تعلیم کی ایسی شناعت ظاہر ہوگی که ساری دنیا حیران رہ جائیگی لیکن اسلامی طریق میں بغاوت کا کوئی امکان نہیں ،ہستی ہو تو ہو کیونکہ یہ ایک طبعی بات ہے۔ملک کے اموال پر حکومت کو اقتدار حاصل ہونیکی ضرورت اب میں اس اہم سوال کی طرف آتا ہوں جو درحقیقت میرے مضمون کی بنیاد ہے مگر اس سے پہلے ایک سوال ابھی باقی ہے جسکو حل کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ ہم اوپر کی تمام نئی تحریکات 89