نظام نو — Page 88
کھانے ملنے چاہئیں اور صرف ماسکو کا ہر شہری نہیں ملک کے سترہ کروڑ باشندے یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ ہمیں بھی یہ سب کچھ ملنا چاہئے مگر کیا ایسا ہوسکتا ہے اگر کہو کہ یہ ناممکن ہے تو یہی جواب دوسری تقسیم کا سمجھنا چاہیئے۔اگر امتیازات نے رہنا ہی ہے تو امتیازات کو دور کرنے کے لئے فسادات کیوں کئے جائیں کیوں نہ کسی اچھی طرز پر اس نقص کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔بالشوزم کا دمافی قابلیتوں کو بیکار قرار دینا اور اسکا نتیجہ پھر بالشوزم کے موجودہ نظام کا ایک اور نتیجہ یہ پیدا ہوگا کہ چونکہ وہ دماغی قابلیتوں کو بغیر ہاتھ کے کام کے بیکار قرار دیتا ہے اس لئے گو اس کا اثر اس وقت محسوس نہ ہو گا مگر کچھ ہی عرصہ کے بعد روی موجد جب یہ دیکھیں گے کہ ان کی دماغی قابلیتوں کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی وہ سیر کے بہانے سے جرمنی یا امریکہ یا انگلستان یا اور ممالک میں چلے جائیں گے اور وہاں جا کر اپنی ایجادات کو رجسٹرڈ کرا دیں گے روس میں نہیں رہیں گے کیونکہ اس نظام کے ماتحت وہ روس میں ان ایجادات سے نفع نہیں اٹھا سکتے۔پس نتیجہ یہ ہوگا کہ جسقد راعلیٰ دماغ والے انسان ہونگے انکی دماغی قابلیتوں سے دوسرے ممالک تو فائدہ اٹھائیں گے مگر روس کو فائدہ نہیں ہوگا اور وہ سب آہستہ آہستہ دوسرے ممالک میں چلے جائیں گے۔اسوقت بالشویک نظام کی مقبولیت ایسی ہی ہے جیسے انجیل کی یہ تعلیم ہے کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو جب تک یہ تعلیم محض باتوں تک رہے اسوقت تک کانوں کو بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے لیکن جب عمل کا وقت آئے تو اسوقت کوئی شخص اس پر عمل نہیں کر سکتا۔یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ قاہرہ کے ایک بازار میں ایک دفعہ ایک مسیحی پادری نے روزانہ لیکچر دینے شروع کر دیئے کہ مسیح کی تعلیم محبت سے لبریز ہے کیونکہ وہ کہتا ہیکہ اگر تم ایک گال پر تھپڑ کھاؤ تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو مگر باقی مذاہب میں یہ ظلم ہے اور وہ ظلم ہے غرض اس طرح وہ تقریر کرتا کہ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ایک مسلمان روزانہ اس کے لیکچر کو سنتا اور دل ہی دل میں اس بات پر 88