نظام نو — Page 81
بھی نہیں دیتی مگر چونکہ بین الاقوامی صلح کے ساتھ ہی اندرونی یعنی انفرادی اصلاح بھی ضروری ہے اس لئے اب میں یہ بتا تا ہوں کہ اسلام نے اندرونی اصلاح کے لئے کیا ذرائع تجویز کئے ہیں۔پہلا حکم یعنی ورثہ کی تقسیم اس غرض کے لئے اسلام نے چار نظریے قائم کئے ہیں اور ان چاروں کی غرض یہ ہے کہ غرباء کی تکلیف دور ہو جائے اگر غور کیا جائے تو تمدن میں خرابی واقعہ ہونے کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ جائیدادیں تقسیم نہیں ہوتیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ چندلوگوں کے قبضہ میں رہتی ہیں اور غرباء کو جائیدادیں پیدا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔اسلام نے اس نقص کو دور کرنے کے لئے ورثہ کے تقسیم کئے جانے کا حکم دیا ہے چنانچہ اسلامی احکام کے مطابق ہر مرنے والے کی جائیداد اس کے ورثاء میں تقسیم ہو جاتی ہے اور ماں کو ، باپ کو ، بیٹوں کو، شوہر کو، بیوی کو غرض ہر ایک حقدار کو اس کا مقررہ حق مل جاتا ہے اور کسی شخص کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اس تقسیم کو اپنی مرضی سے بدل دے بلکہ قرآن کریم یہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر تم اس رنگ میں جائیداد کو تقسیم نہیں کروگے تو گنہ گار ٹھہرو گے۔اس کے مقابلہ میں جو دوسرے مذاہب ہیں اُن میں سے کسی میں تو صرف پہلے بیٹے کو وارث قرار دیا گیا ہے اور کسی میں کسی اور کو۔منو میں لکھا ہے کہ صرف بیٹوں کو ورثہ دیا جائے بیٹیوں کو نہ دیا جائے نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ایک شخص یا چند اشخاص کے ہاتھ میں تمام دولت جمع ہو جاتی تھی اور غرباء ترقی سے محروم رہتے تھے۔اسلام کہتا ہے کہ جب تک تم اپنی دولت کو لوگوں میں پھیلاؤ گے نہیں اُس وقت تک قوم کوترقی حاصل نہیں ہو سکے گی چنانچہ دیکھ لو اگر کسی شخص کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہو اور اس کے دس بیٹے ہوں تو ہر ایک کو دس دس ہزار روپیٹل جائیگا آگے اگر اُن کے تین تین ، چار چار بیٹے ہوں تو یہ دس ہزار کی رقم اڑھائی اڑھائی ، تین تین ہزار روپیہ تک آجائیگی اور اسطرح سب کو دولت کے حصول کے لئے نئے سرے سے محنت کرنی پڑے گی۔یہ نہیں ہوگا کہ وہ محض اپنے باپ دادا کی جائیداد کے سہارے بیٹھے رہیں اور نہ صرف خود نکھے ہو جائیں بلکہ اپنی دولت کو بند کر لیں۔81