نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 129

نظام نو — Page 80

اور اصل میں ایسی ہی لیگ کوئی فائدہ بھی دے سکتی ہے نہ وہ لیگ جو اپنی ہستی کے قیام کے لئے لوگوں کی مہربانی کی نگاہوں کی جستجو میں بیٹھی رہے۔۲۹ " اسی طرح میں نے لکھا تھا: - ” جب تک کہ لوگ اسلام کی تعلیم کے مطابق یہ نہیں سمجھیں گے کہ ہم سب ایک ہی جنس سے ہیں اور یہ کہ ترقی منزل سب قوموں سے لگا ہوا ہے کوئی قوم شروع سے ایک ہی حالت پر نہیں چلی آئی اور نہ آئندہ چلے گی کبھی فساد دور نہ ہوگا۔لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ قوموں کو زیروز بر کر نیوالے آتش فشاں مادے دنیا سے ختم نہیں ہو گئے نیچر جس طرح پہلے کام کرتی چلی آئی ہے اب بھی کر رہی ہے پس جو قوم دوسری قوم سے حقارت کا معاملہ کرتی ہے وہ ظلم کا ایک نہ ختم ہو نیوالا چکر چلاتی ہے۔اسوقت لوگ لیگ آف نیشنز کے قیام پر اتنے خوش تھے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں مگر میں نے زور دیا کہ جب تک تم یہ شرط نہ رکھو گے کہ جو حکومت غلطی کرے گی اس سے سب حکومتیں مل کر لڑیں گی اُسوقت تک امن قائم نہیں ہو سکے گا مگر ا سوقت یہی کہا گیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو صلح کی بجائے لڑائی کی بنیاد رکھنا ہے اور نہ صرف اس کی بلکہ ان سب اصول کی جو اسلام نے پیش کئے ہیں تمام موجودہ تحریکات جو نئے نظام کی مدعی ہیں مخالف رہی ہیں مگر اب بائیس سال دھکے کھا کر اسی طرف رجوع ہوا ہے جس کی خبر اسلام نے پہلے سے دے دی تھی اور مضامین لکھے جا رہے ہیں کہ نئی لیگ کے قیام کے وقت یہ شرط رکھی جائیگی کہ اگر کوئی حکومت تصفیہ کی طرف مائل نہ ہو تو اس سے جنگ کی جائے مگر اب بھی تم دیکھو گے کہ اگر وہ اسلامی نظام کی پوری پابندی نہ کریں گے تو نا کام ہی رہیں گے۔غرباء کی تکالیف کو دور کرنے کیلئے اسلام میں چارا حکام یہ اصول تو اہم قومی امن کے لئے ہیں اور بغیر بین الاقوامی صلح کے اندرونی صلح چنداں نفع 80