نظام نو — Page 82
انگریزوں نے تو پنجاب کی نو آبادیوں میں زمین کی تقسیم کے وقت یہ شرط لگا دی تھی کہ صرف بڑا بیٹا ان کا وارث ہوسکتا ہے مگر اب انہوں نے یہ شرط اُڑادی ہے۔دوسرا حکم یعنی روپیہ جمع کرنے کی ممانعت دوسرے اسلام نے روپیہ جمع کرنے سے روکا ہے یعنی وہ یہ نہیں چاہتا کہ روپیہ کو بند رکھا جائے بلکہ وہ مجبور کرتا ہے کہ لوگ یا تو روپیہ کو خرچ کریں یا اسے کسی کام پر لگائیں کیونکہ دونوں صورتوں میں روپیہ چکر کھانے لگے گا اور لوگوں کو فائدہ ہوگا لیکن اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کے متعلق اسلام یہ وعید سناتا ہے کہ اُسے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو سونا اور چاندی وہ دنیا میں جمع کریگا اسی کو آگ میں گرم کر کے قیامت کے دن اُسے داغ دیا جائیگا۔اس حکم میں حکمت یہی ہے کہ اگر لوگ سونا چاندی جمع کرینگے تو غریبوں کو کام نہیں ملیں گا لیکن اگر وہ اس روپیہ کو کام پر لگا دیں گے تو وہ لوگ جن سے لین دین ہوگا فائدہ اٹھا ئیں گے۔اسی طرح کچھ لوگ بطور ملازمت یا مزدوری کے فائدہ اٹھا سکیں گے مثلاً وہ کوئی عمارت بنانی شروع کر دے تو گو وہ عمارت اپنے لئے بنائیگا مگر روپیہ خرچ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کی روزی کا سامان مہیا ہو جائیگا۔یوں تو فضول عمارتوں پر روپیہ برباد کر نے سے اسلام منع کرتا ہے مگر بہر حال اگر وہ لغو طور پر عمارتیں نہ بنائے بلکہ اپنے ذاتی فائدہ کے لئے بنائے تو بھی لوہاروں اور مستریوں اور مزدوروں اور کئی اور لوگوں کو کام میسر آجائیگا لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے بلکہ سونے چاندی کے زیور بنا کر گھر میں جمع کرنا شروع کر دے تو اس سے دوسروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا پس اسلام روپیہ کو جمع کرنے سے منع کرتا ہے اسی طرح عورتوں کے لئے کثرت سے زیورات تیار کرنا بھی پسند نہیں کرتا یوں تھوڑ اساز یورا نہیں بنوا کر دینا جائز ہے۔82