نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 129

نظام نو — Page 66

حکومت کی تحویل میں رہیں گے اور جب دوسری قوم تاوان جنگ ادا کر دیگی تو پھر اُن سے کوئی خدمت نہیں لی جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائے گا۔اب بتاؤ جب قیدی کو فدیہ دے کر رہا ہونے کا اختیار ہے تو وہ کیوں فدیہ ادا کر کے اپنے آپ کو رہا نہیں کر الیتا۔اگر وہ خود فدیہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا تو اُس کے رشتہ دار فدیہ دے سکتے ہیں۔اگر وہ بھی فدیہ نہیں دے سکتے۔تو حکومت فدیہ دے کر اُسے رہا کر اسکتی ہے۔بہر حال کوئی صورت ایسی نہیں جس میں اس کی رہائی کا دروازہ کھلا نہ رکھا گیا ہو۔فدیہ نہ دے سکنے والے کی رہائی کی صورت ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ ہو سکتا ہے ایک شخص غریب ہو اور وہ خود فدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، گورنمنٹ ظالم ہو، اور اُسے رہا کرانے کا کوئی احساس نہ ہو، رشتہ دار لا پرواہ یا بد معاش ہوں اور وہ چاہتے ہوں کہ وہ قید ہی رہے تا کہ وہ اُس کی جائیداد پر قبضہ کر لیں، دوسری طرف مالک کی یہ حالت ہو کہ وہ بغیر فدیہ کے آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو کیونکہ بالکل ممکن ہے جو رقم اُس نے جنگ میں خرچ کی تھی اُس نے اس کی مالی حالت کو خراب کر دیا ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنی رہائی کے لئے کیا صورت اختیار کر سکتا ہے۔اس سوال کا جواب بھی قرآن کریم نے دیا ہے۔فرماتا ہے: وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْ هُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا وَاتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي آتَاكُمْ " یعنی وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے تمہارا غلام بنایا ہے اور تمہیں اُن پر قبضہ اور تصرف حاصل ہے اگر وہ تم سے کہیں کہ صاحب ہمیں چھڑانے والا کوئی نہیں اور نہ ہمارے پاس دولت ہے کہ ہم فدیہ دے کر رہا ہو سکیں ہم غریب اور نادار ہیں ہم آپ سے یہ شرط کر لیتے ہیں کہ آپ کی رقم دو سال یا تین سال یا چار سال میں ادا کر دیں گے اور اسقدر ماہوار قسط آپ کو ادا کیا کریں گے آپ ہمیں آزاد کر دیں تو فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خيراً۔تم اس بات پر مجبور ہو کہ اُن کو آزاد کر دو اور اُن کے فدیہ کی رقم کی قسطیں مقرر کر لو بشرطیکہ 66