نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 129

نظام نو — Page 65

معلوم وہ کب آزاد ہوں۔چنانچہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: وَانْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِ كُمْ وَإِمَاءِ كُمْ " تمہاری لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں اُن کے متعلق ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم انکی شادی کر دیا کرو۔اب بتاؤ کیا آجکل کا انٹر نیشنل قانون اس سے زیادہ حسن سلوک سکھاتا ہے۔آجکل تو اُن کی پہلی بیویوں کو بھی اُن کے پاس آنے نہیں دیتے کجا یہ کہ خود اُنکی شادی کر دیں۔مگر اسلام کہتا ہے جو کچھ خود کھاؤ وہی انکو کھلا ؤ، جو کچھ خود پہنو وہی انکو پہناؤ، اُن میں سے جو شادی کے قابل ہوں اُن کی شادی کر دو، ان پر کبھی سختی نہ کرو، اور اگر تم کسی وقت انہیں مار بیٹھو تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم انہیں فوراً آزاد کر دو۔پھر کیا آج قیدیوں کو کوئی بھی حکومت یہ اقرار لے کر کہ وہ آئندہ اُن کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہوں گے چھوڑنے کو تیار ہے؟ یا کیا بغیر تاوان جنگ کے کوئی کسی جنگ کرنے والی حکومت کو چھوڑتا ہے؟ اسلام میں فدیہ یعنی تاوان جنگ کے ذریعہ جنگی قیدیوں کی رہائی مگر اسلام نے تاوان جنگ کو بھی اتنا نرم کر دیا ہے کہ فرمایا یا تو احسان کر کے چھوڑ دو اور احسان کو مقدم رکھا اور اس کی برداشت نہ ہو تو تاوان جنگ لیکر چھوڑ دو اور فدیہ تاوان جنگ کے سوا اور کچھ نہیں ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ پہلے جنگ انفرادی ہوتی تھی اس لئے افراد سے تاوان جنگ وصول کیا جاتا تھا مگر اب قومی جنگ ہوتی ہے اسلئے اب طریق یہ ہوگا کہ قوم تاوان جنگ ادا کرے۔پہلے چونکہ با قاعدہ فوجیں نہ ہوا کرتی تھی اور قوم کے افراد پر جنگی اخراجات کی ذمہ داری فردا فردا پڑتی تھی اس لئے اسوقت قیدی رکھنے کا بہترین طریق یہی تھا کہ اُن کو افراد میں تقسیم کر دیا جاتا تھا تا کہ وہ اُن سے اپنے اپنے اخراجات جنگ وصول کر لیں۔مگر جب حکومت کی با قاعدہ فوج ہواور افراد پر جنگی اخراجات کا بارفردا فرد نہ پڑتا ہو تو اس وقت جنگی قیدی تقسیم نہ ہونگے بلکہ 65