نظام نو — Page 67
تمہیں معلوم ہو کہ وہ روپیہ کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں بلکہ تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے اُن کی مدد کرو۔یعنی انہیں کچھ سرمایہ بھی دے دو تا کہ اس ذریعہ سے وہ روپیہ کما کر اپنا فدیہ ادا کرسکیں۔گویا جس وقت قسطیں مقرر ہو جائیں اُسی وقت سے وہ اپنے اعمال میں ویسا ہی آزاد ہوگا جیسے کوئی دوسرا آزاد شخص اور وہ اپنے مال کا مالک سمجھا جائیگا۔اگر ان تمام صورتوں کے باوجود کوئی شخص پھر بھی غلام رہتا ہے اور آزاد ہونے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ خود غلام رہنا چاہتا ہے اور اسے غلامی میں مزا آتا ہے۔غرض اسلامی تعلیم کے ماتحت غلام دنیوی جنگوں میں نہیں بنائے جاتے بلکہ صرف انہیں جنگوں میں بنائے جاتے ہیں جو مذہبی ہوں مگر ان غلاموں کے متعلق بھی حکم دیا کہ اول تو احسان کر کے انہیں چھوڑ دو۔اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو فدیہ لیکر رہا کر دو۔یہ ضروری نہیں کہ وہ خود فدیہ دے اس کے رشتہ دار بھی دے سکتے ہیں، حکومت بھی دے سکتی ہے اور اگر گورنمنٹ لا پرواہ ہو، رشتہ دار ظالم ہوں اور وہ غریب ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ آؤ اور میرے ساتھ طے کر لو کہ مجھ پر کیا تاوان جنگ عائد ہوتا ہے اور مجھے اس تاوان کی ادائیگی کے لئے اتنی مہلت دے دو میں اس عرصہ میں اس قدر ماہوار رو پید ادا کر کے تاوان جنگ دے دونگا۔اس معاہدہ کے معابعد وہ آزاد ہو جائے گا اور مالک کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ مکاتبت میں کسی قسم کی روک پیدا کرے۔مکاتبت کاروکنا صرف اسی صورت میں جائز ہے جبکہ اس میں خیر نہ ہو یعنی جنگ کا خطرہ ہو یا یہ کہ وہ پاگل یا کم عقل ہو اور خود کمانہ سکتا ہو اور خطرہ ہو کہ وہ بجائے فائدے کے نقصان اٹھائیگا۔مکاتبت کی صورت میں اسلام اُسے سرمایہ مہیا کرنیکا بھی حکم دیتا ہے خواہ وہ سرمایہ مالک دے یا حکومت۔قیدیوں کی رہائی کے متعلق اسلام کی انتہائی کوشش پھر ممکن ہے کوئی شخص کہہ دے اگر پاگل یا کم عقل والے کی مکاتبت کو روکنا جائز ہے تو پھر لوگ اچھے بھلے سمجھدار لوگوں کو بے عقل قرار دے کر اپنا غلام بنائے رکھیں گے آزاد تو وہ پھر بھی نہ نہ 67