نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 129

نظام نو — Page 61

لئے جنگ نہ کرتا اور اپنے آپ کو غلامی سے بچالیتا۔اسلامی تعلیم کے مطابق جنگی قیدیوں کی رہائی لیکن فرض کرو ایسا حملہ ہو جائے اور بعض لوگ قیدی بن جائیں تو پھر جو لوگ قیدی بن کر آئیں اُن کے لئے صاف اور واضح الفاظ میں یہ حکم موجود ہے کہ فَإِذَ القِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ط حَتَّى إِذَا الْخَيْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا - یعنی اگر ایسا حملہ ہو جائے اور تمہیں لڑائی کرنی پڑے تو خدا تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اُن میں سے کچھ قیدی پکڑ لومگر پھر اُن سے کیا سلوک کرو اس بارہ میں ہمارے دو قانون ہیں اور تمہیں اُن دونوں میں سے کسی ایک قانون کو ضرور مانا پڑے گا اور وہ قانون یہ ہیں کہ اوّل فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ یا تو احسان کر کے چھوڑ دو اور کہو کہ جاؤ ہم نے تمہیں بخش دیا وَاِمَّا فِدَاءً اور یا جنگ کا خرچ بحصہ رسدی قیدیوں سے لے کر انہیں رہا کر دو۔گویا دو صورتوں میں سے ایک صورت تمہیں ضرور اختیار کرنی پڑے گی۔یا تو تمہیں احسان کر کے انہیں آزاد کرنا پڑیگا اور یا پھر بحصہ رسدی ہر قیدی سے جنگ کا تاوان وصول کر کے انہیں آزاد کرنا پڑیگا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ان میں سے کوئی صورت بھی اختیار نہ کی جائے۔ہاں اگر کوئی شخص بطور احسان انہیں رہا کرنا نہیں چاہتا تو اس وقت تک کہ وہ تاوان جنگ ادا کریں اُن سے خدمت لے سکتا ہے۔آجکل کی یورپین قوموں کو ہی دیکھ لو فرانس کے قیدی جو ہٹلر کے قبضہ میں ہیں اُن سے وہ تاوان جنگ الگ وصول کر یگا اور خدمت الگ لے رہا ہے۔چنانچہ ہر جگہ کہیں جنگی قیدیوں سے سڑکیں بنواتے ہیں، کہیں مٹی کھدواتے ہیں اور کہیں اور کام لیتے ہیں۔بیشک وہ اُن سے اُن کے عہدوں کے مطابق کام لیتے ہیں مگر یہ نہیں کرتے کہ انہیں فارغ رہنے دیں۔پس جنگی قیدیوں سے اب بھی مختلف کام لئے جاتے ہیں اور یہی اسلام کا حکم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اُن کے ہاں تاوان جنگ کو مقدم رکھا جاتا ہے اور اسلام یہ کہتا ہے کہ ہمارا پہلا حکم یہ ہے کہ تم انہیں احسان 61