نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 129

نظام نو — Page 62

کر کے چھوڑ دو ہاں اگر احسان نہیں کر سکتے تو پھر دوسرا حکم یہ ہے کہ اُن سے تاوان جنگ لیکر انہیں رہا کردو۔اسلامی تعلیم کے مطابق جنگی قیدی سے آئندہ جنگوں میں شامل نہ ہو نیکا معاہدہ لیکر اسے رہا کر دینا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ بھی ثابت ہے کہ احسان کر کے چھوڑتے وقت یہ معاہدہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ پھر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے نہیں نکلیں گے کیونکہ ہوسکتا ہے ایک شخص ایک دفعہ رہا ہو تو دوسری دفعہ پھر مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل ہو جائے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کی شرط کر لینے کی اجازت دی ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ ایسا ہے جو بتا تا ہے کہ اس قسم کے خطرات قیدیوں کو رہا کرتے وقت ہو سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ ایک قیدی ابوعزہ نامی کو رہا کیا یہ شخص جنگ بدر میں پکڑا گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس سے یہ عہد لے کر چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہو گا مگر وہ جنگ اُحد میں مسلمانوں کے خلاف پھر لڑنے کے لئے نکلا اور آخر حمراء الاسد کی جنگ میں گرفتار ہو کر مارا گیا۔پس جنگی قیدیوں کے لئے اسلام دو ہی صورتیں تجویز فرماتا ہے۔(۱) احسان کر کے چھوڑ دیا جائے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو (۲) تاوان جنگ بحصہ رسدی وصول کر کے انہیں چھوڑ دیا جائے۔جنگی قیدی سے خدمت لینا ہاں جب تک وہ فدیہ ادا نہ کرے اس سے خدمت لینی جائز ہے کیونکہ قیدی بنانے کی غرض یہی ہوتی ہے کہ دشمن کی طاقت کو کمزور کیا جائے اگر قیدیوں کو اکٹھا کر کے انہیں کھلانا پلانا شروع کر 62