نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 129

نظام نو — Page 60

كَثِيرًا فرماتا ہے آئندہ زمانہ میں ایسے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہیں جو محبت اور انسانیت کے نام پر اپیلیں کرینگے اور کہیں گے کہ لڑائی بہر حال بُری چیز ہے اور وہ کسی صورت میں نہیں ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ایسے لوگوں سے کہو کہ اگر اللہ کا یہ قانون نہ ہوتا کہ بعض کے مظالم بعض کے ذریعہ مٹا دئیے جائیں تو عبادت خانے اور علماء کے رہنے کی جگہیں اور بدھوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجدمیں سب برباد ہو جاتیں۔اور اُن میں اللہ کا نام لیا جانا بند ہو جاتا کیونکہ تمہارے جنگ نہ کرنے سے اِن لوگوں کے ارادے کس طرح بدل سکتے ہیں جو حکومت کا دائرہ وسیع کر کے مذہب پر بھی حکومت کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو اپنے منشاء کے مطابق مذہب رکھنے یا نہ رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہ لوگ جنگ کی قطعی ممانعت کے اعلان کو سنکر دلیر ہو جائیں گے اور نہ صرف دنیوی امور میں دست اندازی شروع کر دینگے بلکہ لوگوں کے دین کو مٹادیں گے اور عبادت کی جگہوں کو گرادینگے وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَّنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عزيز فرماتا ہے جو بھی اس لئے اٹھے گا۔کہ خدا کے دین کو آزاد کرے خدا اس کی مدد کریگا اور وہ قوی اور عزیز ہے۔جس قوم کیسا تھ اس کی مدد ہو وہ کبھی مغلوب نہیں ہوا کرتی۔پھر فرماتا ہے ایسے لوگ جو مذہبی آزادی کے قیام کے لئے اپنی جانوں اور مالوں کو قربان کرتے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ الَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّتُهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكَوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۔اگر وہ دنیا پرقابض ہو جائیں تو طاقتور ہوکر دوسروں کو لوٹیں گے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے، غریبوں کو مال دینگے ، خود بُرے کاموں سے بچیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بُرے کاموں سے روکیں گے۔اب بتاؤ کیا اس قسم کی لڑائی مسلمانوں کے اختیار میں ہے کہ جب اُن کا جی چاہے لڑائی شروع کر دیں اور کفار کو قیدی بنانا شروع کر دیں۔اس قسم کے جنگی قیدی تو دشمن ہی بنوا سکتا ہے اور جب اس سے بچنا اس کے اختیار میں ہے تو پھر اگر وہ ایسی جنگ کرتا ہے تو یا تو وہ پاگل ہے اور یا پھر قید رہنے کے قابل کیونکہ اُسے اختیار تھا کہ وہ حملہ نہ کرتا ، وہ دوسروں پر ظلم نہ کرتا، وہ دین کے 60